اقوام متحدہ، 15 اپریل (اے پی پی): پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ مشرقی جمہوریہ کانگو کی صورتحال بدستور نازک اور تشویشناک ہے اور پائیدار جنگ بندی کے حصول اور سیاسی تصفیے کی راہ ہموار کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
جمہوریہ کانگو اور خطے کے لیے امن سلامتی اور تعاون کے فریم ورک کے نفاذ سے متعلق سلامتی کونسل کی بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ جاری تشدد انسانی بحران اور اندرونی نقل مکانی کی بڑھتی ہوئی صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ زمینی سطح پر امن و استحکام کی بحالی کتنی فوری ضرورت بن چکی ہے۔
انہوں نے قرارداد 2773 پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت کو دہراتے ہوئے کہا کہ پائیدار جنگ بندی کی جانب پیش رفت خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
سفیر عاصم نے کشیدگی میں کمی کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کیا جن میں افریقی یونین کی قیادت میں ثالثی واشنگٹن عمل اور دوحہ فریم ورک شامل ہیں اور کہا کہ یہ اقدامات اقوام متحدہ اور علاقائی سفارتی کوششوں کے ساتھ مل کر اعتماد سازی اور جامع تصفیے کی جانب پیش رفت کے لیے ایک دوسرے کو تقویت فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے جنگ بندی کی نگرانی اور تصدیقی نظام کو فعال بنانے میں پیش رفت کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان قرارداد 2808 کے مطابق موزوں حالات میں جنگ بندی کے نفاذ میں مونوسکو کے تعمیری کردار کی حمایت کرتا ہے۔
مستقل مندوب نے کہا کہ امن سلامتی اور تعاون کا فریم ورک عظیم جھیلوں کے خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے اور اس کے تحت مکالمہ تعاون اور اعتماد سازی کے عہد خطے کے استحکام کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے مشرقی جمہوریہ کانگو میں قیمتی قدرتی وسائل کے غیر قانونی استحصال اور اسمگلنگ کو عدم استحکام کا ایک بنیادی سبب قرار دیا اور اس سلسلے میں علاقائی تعاون کے فروغ سپلائی چین میں شفافیت بڑھانے اور عظیم جھیلوں کے خطے کی بین الاقوامی کانفرنس سمیت موجودہ علاقائی نظاموں کے مؤثر نفاذ پر زور دیا تاکہ قدرتی وسائل تنازع کا سبب بننے کے بجائے کانگو کے عوام کے لیے مشترکہ خوشحالی کا ذریعہ بن سکیں۔
سفیر عاصم نے کہا کہ تیز تر سفارت کاری کے باوجود زمینی سطح پر انسانی اور سکیورٹی صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی جو اس مسئلے کی پیچیدگی اور ایسے علاقائی اقدامات کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے جو مونوسکو کے ملکی مینڈیٹ کی تکمیل کریں۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی حمایت سے بین الاقوامی توجہ اور سفارتی کوششوں کا موجودہ امتزاج ایک نادر موقع فراہم کرتا ہے جس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔
سفیر عاصم نے جمہوریہ کانگو کی خودمختاری اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا اور عظیم جھیلوں کے خطے میں دیرپا امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کو دہرایا۔











