اسلام آباد، 8 اپریل (اے پی پی ):وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان نے بدھ کو یہاں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیمبر ہاؤس میں ایک براہِ راست سیشن سے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ عالمی اور علاقائی بحرانوں کے دوران پاکستان ایک مضبوط اور ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھرا ہے، جس نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں عسکری اور معاشی سطح پر غیر معمولی استقامت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے موجودہ دور کو پاکستان کے لیے ایک “تاریخی لمحہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر ملک کی ساکھ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
معاونِ خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم نے مشکل حالات میں غیر معمولی قیادت کا مظاہرہ کیا، کابینہ اراکین کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا اور توانائی کے انتظام، برآمدات کے فروغ اور درآمدات میں کمی جیسے اہم شعبوں کی مسلسل نگرانی کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بروقت اور مؤثر فیصلوں کو یقینی بنانے کے لیے غیر معمولی اوقات میں بھی مشاورت کی جاتی رہی۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی سمیت عالمی پیش رفت کے حوالے سے پاکستان کے محتاط اور متوازن مؤقف کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور قیامِ امن میں تعمیری کردار ادا کیا، جبکہ اسلام آباد میں حالیہ سفارتی کوششیں جنگ بندی اور علاقائی استحکام کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی عسکری اور سیاسی قیادت، بشمول وزیراعظم شہباز شریف اور چیف مارشل جنرل سید عاصم منیر، کی مشترکہ کاوشوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر ہوا ہے۔ انہوں نے اس دن کو پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر خود کو عالمی امن کا داعی ثابت کیا ہے۔
معاونِ خصوصی نے جنگ کے شدید معاشی اور سماجی اثرات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ علاقائی خوشحالی کے لیے پائیدار امن ناگزیر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی روابط مستقل امن کا باعث بنیں گے۔معاشی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے نجی شعبے کا فعال کردار انتہائی اہم ہے جبکہ حکومت کا کردار سہولت فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی ترقی برآمدات میں اضافے، درآمدات میں کمی، تجارتی خسارے کو کم کرنے اور کرنٹ اکاؤنٹ کے مسائل پر قابو پانے کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے غیر ملکی سرمایہ کاری میں بہتری کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مستحکم قیادت کے باعث پاکستان کے پاس معاشی ترقی کو تیز کرنے کا سنہری موقع موجود ہے۔
انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ ابھرتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور ملک کو ایک مضبوط اور متحرک معاشی طاقت بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ اب دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں، جو مسلسل امن اور مثبت عالمی کردار کے عزم کا مظاہرہ کر رہا ہے۔











