نیویارک، 12 مئی (اے پی پی ):پاکستان نے بوسنیا و ہرزیگووینا کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور وحدت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے وہاں کی تمام سیاسی قیادت اور مختلف نسلی گروہوں پر زور دیا ہے کہ وہ تقسیم پیدا کرنے والی بیان بازی کو مسترد کریں اور امن و استحکام کے لیے مل کر کام کریں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بوسنیا و ہرزیگووینا کی صورتحال پر ہونے والے مباحثے میں پاکستان کا موقف پیش کرتے ہوئے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ‘ڈیٹن امن معاہدہ’ (Dayton Peace Accord) ملک کے تمام نسلی گروہوں کے امن، استحکام اور خوشحالی کی اصل بنیاد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے کے بنیادی اصولوں پر مکمل عملدرآمد ہی دیرپا امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔
سفیر عاصم افتخار نے پاکستان اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہاں کی سیاسی قیادت تدبر کا مظاہرہ کرے گی اور اختلافات کے حل کے لیے تعمیری روابط کو فروغ دے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ بوسنیا کے مستقبل کی ذمہ داری خود وہاں کے تینوں نسلی گروہوں — بوسنیاک، کروایٹس اور سرب — پر عائد ہوتی ہے، جنہیں نفرت اور تقسیم پر مبنی بیانیوں کو مسترد کرتے ہوئے مشترکہ وقار پر مبنی مستقبل تعمیر کرنا ہوگا۔
پاکستانی مندوب نے بوسنیا کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی کشیدگی اور ادارہ جاتی جمود حکمرانی کے نظام اور نازک بین النسلی توازن کے لیے نیک شگون نہیں۔ انہوں نے بالخصوص اس اشتعال انگیز بیان بازی پر خبردار کیا جس میں نسلی اور مذہبی پہلو نمایاں ہیں اور جس کا ہدف ایک مخصوص نسلی گروہ کو بنایا جا رہا ہے۔
آخر میں سفیر احمد نے بوسنیا و ہرزیگووینا کے اس حق کو تسلیم کیا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی علاقائی سیاسی یا اقتصادی تنظیم کے ساتھ شراکت داری اور انضمام کے راستے کا انتخاب کرے۔











