نیویارک،8مئی ( اے پی پی): اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے 8 مئی 2026 کو مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کی صورتحال پر آریا فارمولا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے غیرقانونی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔
انہوں نے اجلاس کے انعقاد پر برطانیہ، ڈنمارک، فرانس، یونان اور لٹویا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے منظم الحاق، غیرقانونی بستیوں کی توسیع، گھروں کی مسماری، زمینوں پر قبضے اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کا سلسلہ بلا تعطل جاری ہے جو ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کے قانون سازی اور انتظامی اقدامات کو مسترد کرتا ہے جن کا مقصد غیرقانونی قبضے کو مستحکم کرنا اور عملی الحاق کو قانونی کنٹرول میں تبدیل کرنا ہے۔ اراضی کے اندراج اور ضبطی کے طریقہ کار سمیت انتظامی اختیارات میں توسیع کے حالیہ فیصلے چوتھے جنیوا کنونشن اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور انہیں فوری واپس لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ غیرقانونی بستیوں کی توسیع تشویشناک رفتار سے جاری ہے اور گزشتہ تقریباً چار برسوں میں قابض قوت نے 102 نئی بستیوں کی منظوری دی ہے، جو اس سے پہلے موجود 127 بستیوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنا اضافہ ہے۔ غیرقانونی E-1 بستی منصوبہ مغربی کنارے کے قلب کو تقسیم کرتا ہے جبکہ یروشلم کے مشرق میں 3,400 سے زائد رہائشی یونٹس کے ٹینڈرز ایک مربوط فلسطینی ریاست کو جغرافیائی طور پر ناممکن بنانے کی کوشش ہیں۔ 2025 میں آبادکاروں کے تشدد میں بے مثال اضافہ ہوا اور اقوامِ متحدہ نے 2006 سے اب تک فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے حملوں کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام آبادکارانہ تشدد اور غیرقانونی بستیوں کی سرگرمیاں قرارداد 2334 کے مطابق فوری بند کی جائیں۔ سفیر نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بگڑتی ہوئی معاشی اور انسانی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی ٹیکس محصولات کی مسلسل روک تھام نے مالی بحران کو سنگین بنا دیا ہے اور فلسطینی اتھارٹی کی بنیادی عوامی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت کمزور ہوئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ الحاق کا عمل پوری شدت سے جاری ہے اور فوری مداخلت ضروری ہے۔ بین الاقوامی برادری، بالخصوص اسرائیل پر اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک، احتساب یقینی بنائیں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرائیں۔ پاکستان نے مؤقف دہرایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں منصفانہ اور دیرپا امن کا واحد راستہ اسرائیل کے غیرقانونی قبضے کا خاتمہ اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کا حصول ہے، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام سے ممکن ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔











