نیویارک ، 27 مئی (اے پی پی) : اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے میں پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعہ کو سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن یکطرفہ اقدامات، جبر یا سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوششوں سے قائم نہیں ہو سکتا، کیونکہ پانی کو کبھی بھی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے “بین الاقوامی امن و امان کا قیام: اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مقاصد و اصولوں کی پاسداری اور اقوامِ متحدہ کے زیرِ اثر بین الاقوامی نظام کی مضبوطی” کے موضوع پر پاکستان کا ٹھوس موقف پیش کیا۔ چین کی صدارت میں ہونے والے اس اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کو بین الاقوامی نظام کی اخلاقی بنیاد قرار دیا اور عالمی تنازعات کے حل میں دوہرے معیار کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ بحران اصولوں کی کمی سے نہیں بلکہ ان کے انتخابی اور پسندیدہ اطلاق سے جنم لیتا ہے، جس سے اس کونسل کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر پاکستان کے سفارتی کردار، بالخصوص چین کے ساتھ مل کر پیش کیے گئے پانچ نکاتی امن اقدام کا ذکر کیا۔
سینیٹر اسحاق ڈار نے فلسطین میں غاصبانہ قبضے، اجتماعی سزا اور جبری بے دخلی کے خاتمے اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ سلامتی کونسل میں ایسی جامع، جمہوری اور منصفانہ اصلاحات کا مطالبہ کیا جو طاقت کے نئے مستقل مراکز بنانے کے بجائے ترقی پذیر ممالک کے اجتماعی مفادات کی عکاس ہوں تاکہ بدامنی کے بنیادی اسباب جیسے غیر ملکی قبضے، غربت، اسلامو فوبیا اور موسمیاتی ناانصافی کا مؤثر سدباب کیا جا سکے۔











