راولپنڈی، 05 مئی (اے پی پی ): آرمی چیف و چیف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشان امتیاز (ملٹری)، ہلال جرات، کی زیر صدارت جی ایچ کیو راولپنڈی میں 275ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی۔
فورم نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بے گناہ شہریوں کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے وطن کے دفاع میں جان قربان کی۔ فورم نے کہا کہ شہدا کی قربانیاں پاکستان کی قومی سلامتی، اتحاد اور استقامت کی بنیاد ہیں۔
آرمی چیف نے پاک فوج کی آپریشنل تیاری، پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی صلاحیت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کمانڈرز اور فارمیشنز کو ملک بھر میں جاری انٹیلیجنس بیسڈ انسداد دہشت گردی آپریشنز میں کامیابی پر سراہا۔
فورم نے داخلی و خارجی سیکیورٹی صورتحال کا جامع جائزہ لیتے ہوئے موجودہ آپریشنل رفتار برقرار رکھنے کا عزم کیا تاکہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو مکمل ختم کیا جا سکے اور انہیں پاکستان میں کوئی آپریشنل جگہ نہ ملے۔
فورم نے آپریشن “غضب للحق” کے ذریعے دہشت گردوں اور ان کے انفراسٹرکچر کی مسلسل تباہی کو سراہا۔ فورم نے افغان طالبان حکومت کی خوارج اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دینے کی پالیسی کو افغان عوام کے مفاد کے منافی قرار دیا اور کہا کہ یہ پالیسی الٹا انہی پر الٹ پڑ رہی ہے۔ فورم نے طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے جھوٹے الزامات کو منظم پروپیگنڈا اور اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دے کر مسترد کر دیا۔ فورم نے واضح کیا کہ پاکستان کی دفاعی کارروائیاں صرف دراندازوں، دہشت گرد ٹھکانوں اور معاونت کے ڈھانچے پر مرکوز ہیں۔
علاقائی سلامتی پر بات کرتے ہوئے فورم نے کہا کہ ابھرتی ہوئی جغرافیائی پیش رفت خطے کے استحکام پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ فورم نے تحمل، کشیدگی سے بچنے اور پاکستان کے ذمہ دارانہ کردار پر زور دیا اور کہا کہ خطے کا امن اجتماعی تحمل، ذمہ داری اور خودمختاری کے احترام سے جڑا ہے۔
فورم نے قوم اور مسلح افواج کو معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر مبارکباد دی اور اسے قومی اتحاد، اجتماعی عزم اور پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ کا عہد قرار دیا۔ فورم نے کہا کہ معرکۂ حق کی قومی یاد بھارتی سیاسی ذہنیت کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستانی قوم متحد، پرعزم اور ہر حال میں تیار ہے۔
فورم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مظالم، ماورائے عدالت قتل اور آبادیاتی تبدیلیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کے لیے پاکستان کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا۔
اختتامی کلمات میں آرمی چیف نے کمانڈرز کو بدلتے ہوئے خطرات کے پیش نظر اعلیٰ سطح کی چوکسی، آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ برتری برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔











