قومی اسمبلی میں شاہدہ بیگم کی توجہ دلاؤ نوٹس پر عامر طلال کا بیان — آئی پیز معاہدے اور قابلِ تجدید توانائی پر حکومت کا موقف

12

اسلام آباد، 18مئی  (اے پی پی ):  قومی اسمبلی میں شاہدہ بیگم کی جانب سے پیش کیے گئے توجہ دلاؤ نوٹس پر پارلیمانی سیکرٹری پاور ڈویژن عامر طلال نے حکومت کا موقف پیش کیا۔ عامر طلال نے بتایا کہ 2008 سے 2013 کے دور میں شدید بجلی بحران کے باعث آئی پیز کے ساتھ معاہدے کیے گئے تھے۔ 2015-16 میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے ان معاہدوں کا جائزہ لے کر 7 آئی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کیے، جبکہ باقی آئی پیز کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کر کے شرائط بہتر بنائی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ “ٹیک اینڈ پے” کے نظام کو “پے اینڈ پے” میں تبدیل کیا گیا، لیٹ پیمنٹ پر سود کی شرح کائبر پلس 4.5 فیصد سے کم کر کے کائبر پلس 1 فیصد کر دی گئی، اور بینکوں کے کنسورشیم کے ذریعے گردشی قرضے کے لیے 903 ارب روپے کی ادائیگی کائبر مائنس 0.9 فیصد پر طے پائی۔

قابلِ تجدید توانائی کے حوالے سے عامر طلال نے کہا کہ 2025 میں بجلی کی پیداوار میں 20 فیصد کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے اور 2026 میں اسے 30 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب لگنے والے تمام نئے بجلی گھر سولر، ونڈ اور بایوماس جیسے قابلِ تجدید ذرائع پر ہوں گے، اور 2028-30 تک کل پیداوار میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 70 فیصد تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔