اسلام آباد،9مئی (اے پی پی):پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی گہرے تعلقات ہیں،مشترکہ مستقبل کی تشکیل کے لیے چین پرعزم ہے۔
ہفتہ کو اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں اعلیٰ ترین سفارت کاروں، سرکاری عہدیداروں اور پالیسی ماہرین نے چین پاکستان سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منائی اور سنکیانگ کی معاشرتی و معاشی تبدیلی کو علاقائی استحکام اور معاشی انضمام کے لیے ایک اہم خاکہ قرار دیا۔
’’سنکیانگ کی معاشرتی و معاشی ترقی، نسلی ہم آہنگی اور ابھرتے ہوئے مواقع، نئے افق کھولنا‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار نے چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے ارتقائی منظرنامے کے تحت تعاون کے نئے راستوں کی تلاش کا پلیٹ فارم فراہم کیا۔
اس موقع پر چین کے پاکستان میں سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی گہرے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے زور دیا کہ سنکیانگ کی صنعتی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کا قابلِ رشک سفر پاکستان کے لیے سرحدی تجارت اور رابطے کو بہتر بنانے کا منفرد موقع فراہم کرتا ہے۔
سفیر نے مشترکہ مستقبل کی تشکیل کے لیے چین کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سنکیانگ کی خوشحالی اور استحکام علاقائی ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے چینی امور ظفر الدین محمود نے شرکاء کو پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو چینی علاقے سنکیانک میں ابھرنے والے مواقع کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی تذویراتی اہمیت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سیمینار کے موضوع میں ذکر کردہ ’’نیا افق‘‘ اعلیٰ ٹیکنالوجی کے تبادلے اور پائیدار صنعتی کاری کی طرف منتقلی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کے 75 سالہ سنگ میل دونوں قوموں کے مضبوط بندھن کی گواہی ہے، جو عالمی جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے باوجود مسلسل مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔اس مباحثہ میں تعلیمی اور دفاعی حلقوں کے متنوع نقطہ نظر بھی پیش کیے گئے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل صفدر علی شاہ نے تعلیمی تعاون کی ضرورت پر بات کی، جبکہ گروپ کیپٹن (ر) سلطان ایم حالی نے پاکستان اور سنکیانگ کے لوگوں کو جوڑنے والے ثقافتی اور تاریخی رشتوں پر روشنی ڈالی۔ انٹرنیشنل سٹڈیز کے ماہر شکیل احمد نے دلیل دی کہ سنکیانگ کا ’’نسلی ہم آہنگی‘‘ کا ماڈل اس کی اندرونی ترقی کی بنیاد رہا ہے اور سماجی انتظام و انضمامی ترقی کے قیمتی سبق پیش کرتا ہے۔
شرکاء نے سنکیانگ علاقے کے متاثر کن ترقیاتی اشاریوں کو بھی اجاگر کیا تاکہ معاشی مرکز کے طور پر اس کی صلاحیت کو واضح کیا جا سکے۔یہ بتایا گیا کہ سنکیانگ میں فی کس آمدنی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جو غربت کے خاتمے اور مشترکہ دولت کی وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ گرین انرجی اور گرڈ کنیکٹیویٹی میں خطے کی بڑی پیش رفت کو صنعتی جدیدیت کے ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا۔ مقررین نے زور دیا کہ سنکیانگ کی طاقت اس کی بھرپور نسلی تنوع میں مضمر ہے، جہاں 50 سے زائد نسلی گروہ ہم آہنگی سے رہتے ہیں، جس نے ایک منفرد ثقافتی چمک پیدا کی ہے جو اس کی معاشرتی و معاشی کامیابی کی بنیاد ہے۔تقریب کا اختتام پاکستان اور چین کے درمیان ’’آئرن برادرز‘‘ کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ان ترقیاتی سنگ میل کو استعمال کرنے کے عزم کے ساتھ ہوا۔











