نیویارک، 9 مئی ( اے پی پی):اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور نیویارک میں پاکستان کے قونصلیٹ جنرل کے زیرِ اہتمام معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب کا موضوع تھا: “معرکۂ حق: پاکستان کی فتح، استقامت، عزم اور انصاف کے سفر کی یادگار”۔
اس موقع پر مقررین نے معرکۂ حق کو قومی قوت، اتحاد اور سفارتی عزم کا فیصلہ کن لمحہ قرار دیا۔مقررین نے کہا کہ بھارت کی بلااشتعال جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کا ردعمل مضبوط، متوازن اور کامیاب رہا جس سے واضح ہوا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ ذمہ داری، تحمل اور اسٹریٹجک پختگی کے ساتھ عمل پیرا رہتا ہے۔ پاک مسلح افواج کو ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور تیاری پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جن کے طرزِ عمل نے نہ صرف وطن کے دفاع میں قوت کا اظہار کیا بلکہ دباؤ کے باوجود نظم و ضبط اور اشتعال کے مقابلے میں اعتماد کو بھی ظاہر کیا۔
مقررین نے زور دیا کہ پاکستان کے امن کے عزم کو کمزوری نہیں سمجھا جا سکتا۔
تقریب میں سینیٹر رانا محمود الحسن، قونصل جنرل پاکستان نیویارک عامر احمد آتوزئی، ڈاکٹر غلام مجتبیٰ چیئرمین پاکستان پالیسی انسٹی ٹیوٹ، ڈاکٹر غلام نبی فائی سیکرٹری جنرل ورلڈ کشمیر اویرنیس فورم، کمیونٹی لیڈر علی راشد، کشمیری کارکن تاج خان اور پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوامِ متحدہ سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کیا۔ تقریب میں سفارتکاروں، کشمیری رہنماؤں اور نیویارک میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے ارکان نے شرکت کی۔
اپنے کلیدی خطاب میں سفیر عاصم افتخار احمد نے پاک مسلح افواج کی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا، اور پاکستانی عوام کے عزم، اتحاد اور استقامت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق پاکستان کی حالیہ تاریخ کا ایک فیصلہ کن لمحہ ہے جو قومی عزم، اسٹریٹجک بصیرت اور خودمختاری و علاقائی سالمیت کے دفاع کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ردعمل مضبوط، متوازن اور ذمہ دارانہ تھا جس نے فوجی تیاری اور اسٹریٹجک تحمل دونوں کا مظاہرہ کیا۔ سفیر نے کہا کہ معرکۂ حق نے بھارت کے جارحانہ عزائم، پروپیگنڈے اور جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کیا، جبکہ پاکستان کے اصولی مؤقف کو مزید مضبوط کیا کہ جارحیت کا جواب عزم سے، پروپیگنڈے کا جواب سچ سے، اور کشیدگی کا جواب تحمل سے دیا جائے۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کو اجاگر کیا اور کہا کہ معرکۂ حق نے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار اور ساکھ کو مزید مستحکم کیا ہے۔
سینیٹر رانا محمود الحسن نے کہا کہ معرکۂ حق برصغیر کی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے پاکستان کی عسکری قوت، قومی اتحاد اور اسٹریٹجک عزم کو واضح طور پر اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف عسکری محاذ پر بھارت کی جارحیت کا کامیابی سے مقابلہ کیا بلکہ اپنی اصولی پوزیشن کو مؤثر انداز میں عالمی برادری کے سامنے پیش کرتے ہوئے اہم سفارتی اور سیاسی کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دور پاکستان کی سفارت کاری کے بہترین ادوار میں سے ایک تھا۔
قونصل جنرل عامر احمد آتوزئی نے اپنے ابتدائی کلمات میں پاکستان کے امن، مکالمے اور علاقائی استحکام سے وابستہ مستقل عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے نیویارک میں پاکستانی اور کشمیری ڈائسپورا، خصوصاً پاکستانی-امریکی کمیونٹی کی غیر متزلزل حمایت اور حب الوطنی کو سراہا۔
ڈاکٹر غلام مجتبیٰ نے کہا کہ پاکستان نے سفارتی اور عسکری منصوبہ بندی دونوں میں واضح برتری کا مظاہرہ کیا۔ ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا کہ معرکۂ حق نے پاکستان کے بین الاقوامی وقار کو مزید بلند کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی عوام نے پاکستان کی کامیابی کا خیرمقدم کیا اور تسلیم کیا کہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط پاکستان ناگزیر ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کو ایک جعلی فلیگ آپریشن کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی جو فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت، وزیراعظم شہباز شریف کی بصیرت اور پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کے باعث ناکام ہو گیا۔
کمیونٹی رہنما علی راشد نے کہا کہ معرکۂ حق اس بات کی مضبوط مثال ہے کہ مضبوط اور باہمت قومیں بحران کے لمحات میں اتحاد، عزم اور اپنے اداروں پر اعتماد کے ساتھ ردعمل دیتی ہیں۔
کشمیری رہنما تاج خان نے کہا کہ معرکۂ حق پاکستان اور کشمیر دونوں کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کے درمیان بہترین ہم آہنگی نے مؤثر ردعمل کو یقینی بنایا۔
مقررین نے متفقہ طور پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے تمام تنازعات، خصوصاً مسئلۂ جموں و کشمیر کا حل، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن طور پر حل کیا جانا ناگزیر ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے اعادہ کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور امن پسند ملک ہے جو مکالمے، استحکام اور باہمی احترام پر مبنی پرامن بقائے باہمی کا خواہاں ہے۔
سینیٹر رانا محمود الحسن نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، سلامتی اور انڈس واٹرز ٹریٹی کے تحت اپنے جائز پانی کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا-











