وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی صنعتی نمائندوں سے ملاقات

7

اسلام آباد، 8 مئی ( اے پی پی): وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے پاکستان بزنس کونسل اور صنعتی نمائندوں سے ٹیرف اصلاحات اور صنعتی پائیداری پر تفصیلی مشاورت کی۔ گیٹرون انڈسٹریز اور نوواٹیکس کے سی ای او تیمور داؤد سمیت صنعتی نمائندوں نے وزیر تجارت سے ملاقات کی ہے۔

اجلاس میں پیٹروکیمیکل، پلاسٹک، پولیسٹر اور ایس ایم ای سیکٹر کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔

صنعتی نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اچانک ڈیوٹی میں کمی سے مقامی صنعت، سرمایہ کاری اور حکومتی آمدن متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حقیقی برآمدی صنعت اور درآمدی تجارت میں فرق کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان کی صنعتی و برآمدی پالیسی کو طویل المدتی صنعتی ترقی اور پائیدار مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا ہوگا۔ ابھرتی ہوئی صنعتوں کو عالمی سطح پر مسابقتی بننے کیلئے وقت، انفراسٹرکچر اور پالیسی تسلسل درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی حالات، توانائی لاگت اور سیکیورٹی چیلنجز خطے کے دیگر ممالک سے مختلف ہیں۔

اجلاس میں غیر دستاویزی معیشت اور غیر مساوی نفاذ کے باعث رجسٹرڈ صنعتوں کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وزیر تجارت نے رجسٹرڈ صنعتوں کے تحفظ کیلئے مؤثر نظام کی ضرورت پر زور دیا اور پیٹروکیمیکل، پی وی سی، پلاسٹک اور ویلیو ایڈڈ صنعتوں کو پاکستان کی صنعتی ترقی کیلئے اہم قرار دیا۔

صنعتی نمائندوں نے مستحکم صنعتی پالیسی اور معاون ٹیرف ڈھانچے کو نئی سرمایہ کاری کیلئے ضروری قرار دیا۔ جام کمال خان نے کہا کہ جنوبی کوریا، چین، جاپان اور امریکہ میں صنعتی ترقی مرحلہ وار حکومتی معاونت سے ممکن ہوئی۔ وزارت تجارت کاروباری برادری اور صنعتکاروں سے مشاورت جاری رکھے گی تاکہ متوازن اور پائیدار تجارتی پالیسیاں تشکیل دی جا سکیں۔