وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا ڈریپ کا دورہ اصلاحات اور ویکسین تیاری پر پیش رفت کا جائزہ

9

اسلام آباد، 4 مئی (اے پی پی): وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کا دورہ کیا جہاں ان کی صدارت میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں فیڈرل سیکرٹری صحت ایڈیشنل سیکرٹری صحت ڈی جی ہیلتھ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے تحت 2D بارکوڈ کے نفاذ کے لیے پیش رفت اور ڈریپ کی جانب سے جاری آٹومیشن اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ قومی ویکسین پالیسی کے بعد آئندہ لائحہ عمل اور انڈونیشیا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت پر بھی غور کیا گیا۔

ڈبلیو ایچ او کے گلوبل بینچ مارکنگ فار نیشنل ریگولیٹری سسٹم سے متعلق پیش رفت اور صوبائی ادارہ جاتی اصلاحات کا جائزہ بھی لیا گیا۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ کے لیے وہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ خود رابطہ کاری کریں گے۔

اجلاس میں نیشنل کنٹرول لیبارٹری فار بائیولوجیکل کی اپ گریڈیشن اور ڈریپ میں جاری بھرتیوں کے عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان مقامی طور پر ویکسین کی تیاری کے لیے پرعزم ہے اور قومی ویکسین پالیسی کی منظوری ملکی تاریخ میں پہلی بار دی گئی ہے جس کے بعد پاکستان کو ویکسین تیار کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں پاکستان خود ویکسین تیار کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

اے پی پی/سہیل/نورین

انہوں نے کہا کہ ڈریپ میں جاری اصلاحات کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں اور ادارے کو عالمی معیار کے مطابق ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کے لیے اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ڈریپ کو ڈبلیو ایچ او کے لیول تھری اسٹیٹس کے حصول کے لیے تمام ضروری اقدامات میں تیزی لائی جائے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ان اقدامات کے بعد پاکستانی ادویات کو دنیا کے 150 ممالک تک رسائی حاصل ہو سکے گی جبکہ اس وقت ادویات 51 ممالک کو برآمد کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت سے برآمدات میں نمایاں اضافہ اور ملکی معیشت کو استحکام ملے گا۔