پاکستان اور چین ایک منصفانہ عالمی نظام حکمرانی کے قیام کیلئے متحد ہیں جو بین الاقوامی قانون پر مبنی ہو ، اسحاق ڈار

12

نیویارک ،28مئی  (اے پی پی):نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کثیرالجہتی نظام کے لیے پاکستان کے اصولی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین ایک منصفانہ اور جامع عالمی نظام حکمرانی کے قیام کے لیے متحد ہیں جو بین الاقوامی قانون پر مبنی ہو اور جس میں اقوام متحدہ مرکزی حیثیت رکھتی ہو۔

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے عالمی طرز حکمرانی کے دوست ممالک کے اجلاس میں شرکت کی جو اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ ’’گروپ آف فرینڈز آن گلوبل گورننس‘‘ کے تحت منعقد ہوا ۔ اجلاس کا موضوع ’’عالمی طرز حکمرانی میں اصلاحات اور بہتری: عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں‘‘ تھا۔ یہ اجلاس عوامی جمہوریہ چین کی جانب سے منعقد کیا گیا جس کی صدارت چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے کی۔

اجلاس میں اقوام متحدہ کی نائب سیکریٹری جنرل آمنہ جے محمد اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے دیگر اعلیٰ نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

اپنے خطاب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے چین کی بصیرت افروز قیادت اور ایسے وقت میں کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے اس کے ثابت قدم عزم کو سراہا، جب دنیا شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ بین الاقوامی برادری کو درپیش متعدد اور باہم جڑے ہوئے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں پر مبنی عالمی نظام حکمرانی کو زیادہ موثر بنانے اور عالمی یکجہتی کو ازسرِنو فروغ دینے کی فوری ضرورت ہے۔

‎نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے بین الاقوامی امور میں چین کے استحکام پیدا کرنے والے کردار کو سراہا اور صدر شی جن پنگ کے ’’گلوبل گورننس انیشی ایٹو‘‘ سمیت چین کے دیگر اہم عالمی اقدامات  یعنی ’’گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو‘‘، ’’گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو‘‘ اور ’’گلوبل سیولائزیشن انیشی ایٹو‘‘ کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔

 انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پائیدار ترقی، مشترکہ سلامتی، تہذیبوں کے درمیان ہم آہنگی اور منصفانہ عالمی حکمرانی کے فروغ کے لیے ایک جامع وژن پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات اقوام متحدہ کی مرکزی حیثیت کو مضبوط کرتے ہوئے عالمی فیصلوں میں گلوبل سائوتھ کی زیادہ نمائندگی اور موثر آواز کی حمایت کرتے ہیں۔

 انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کا یکساں اطلاق، تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، تنازعات کا پرامن حل، بین الاقوامی معاہدوں پر مخلصانہ عملدرآمد اور غیر ملکی قبضے کے تحت رہنے والے عوام کے حق خودارادیت کا حصول بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یقینی بنایا جانا چاہیے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ جمہوری، نمائندہ اور جوابدہ بنانا ضروری ہے جس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو مکمل اور مناسب نمائندگی حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ نئے مستقل ارکان کا اضافہ ریاستوں کی خودمختار برابری کے بنیادی اصول کے خلاف ہوگا اور سلامتی کونسل کو مزید غیر نمائندہ بنا دے گا۔

نائب وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، چین اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر منصفانہ ترقی، کثیرالجہتی تعاون کے فروغ، بین الاقوامی قانون کے تحفظ اور دنیا بھر میں دیرپا امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔