اقوامِ متحدہ، 28 مئی ( اے پی پی): پاکستان نے یوکرین میں جاری تنازع کے فوری خاتمے کے لیے جنگ بندی اور سفارت کاری کے ذریعے مذاکراتی عمل کی بحالی پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مسلسل فوجی کشیدگی انسانی بحران کو مزید سنگین اور علاقائی استحکام کو خطرے سے دوچار کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین سے متعلق ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے حالیہ شدید جھڑپوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تباہ کن انسانی اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
سفیر عاصم نے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری سے متعلق پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کی مکمل پابندی کریں، جن میں شہریوں اور سفارتی تنصیبات کا تحفظ بھی شامل ہے، جو بین الاقوامی روایتی اور معاہداتی قوانین کے تحت یقینی بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی ایک مرتبہ پھر اس امر کو واضح کرتی ہے کہ تنازعات کا پُرامن حل ناگزیر ہے،اور اس بات پر زور دیا کہ جامع اور دیرپا امن کے حصول کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہیں۔
پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ فوجی ذرائع پائیدار امن نہیں لا سکتے اور تمام فریقین پر فوری اور مکمل جنگ بندی پر اتفاق کرنے کی ضرورت اجاگر کی تاکہ سفارتی کوششوں اور بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے تنازع کے مذاکراتی حل کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں اور مقاصد کا احترام اور تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات کو مدِنظر رکھنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ کی سہولت کاری میں جاری مذاکراتی عمل جلد دوبارہ شروع ہوگا تاکہ تنازع کے پُرامن حل کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
بین الاقوامی امن کی کوششوں کے لیے پاکستان کی حمایت کو اجاگر کرتے ہوئے سفیر عاصم نے یاد دلایا کہ پاکستان نے گزشتہ برس فروری میں منظور کی گئی سلامتی کونسل کی قرارداد 2774 کے حق میں ووٹ دیا تھا اور پاکستان آئندہ بھی اس تنازع کے جامع، پائیدار اور پُرامن حل کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی کارروائیوں کے جاری رہنے کا ہر گزرتا دن خطے کی عوام کی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے اور فریقین کو مطلوبہ امن سے مزید دور لے جا رہا ہے۔











