اقوامِ متحدہ ، 16 جون(اے پی پی ):اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے یمن سے متعلق اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے سیاسی حل، علاقائی استحکام اور انسانی امداد کے لیے عالمی تعاون پر زور دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ اور انڈر سیکریٹری جنرل ٹام فلیچر کی جامع بریفنگز پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہم بالخصوص ان دونوں کی جانب سے اس اہم نکتے کو نوٹ کرتے ہیں کہ یمن کو درپیش سلامتی اور انسانی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے سیاسی حل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ یمن غیر معمولی تاریخی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ اہم بحری تجارتی راستوں کے سنگم پر واقع یہ ملک صدیوں سے مختلف خطوں، تہذیبوں اور منڈیوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ تاہم یمن کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے باہمت اور ثابت قدم عوام ہیں، جنہوں نے برسوں کے تنازعات اور مشکلات کا غیر معمولی حوصلے اور استقامت کے ساتھ سامنا کیا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ آج یمن ایک نازک اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ملک کو اب بھی اہم سیاسی، اقتصادی اور انسانی چیلنجز درپیش ہیں۔ اس کے باوجود حالیہ مہینوں میں سامنے آنے والی مثبت پیش رفت اور نسبتاً پُرسکون صورتحال جس میں ملک کے اندر مختلف محاذوں پر بڑی عسکری جھڑپوں کا نہ ہونا اور تجارتی جہاز رانی پر حملوں کا خاتمہ شامل ہے، اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کشیدگی میں کمی ممکن ہے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کے پائیدار حل تک پہنچا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا امن معاہدہ کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے ایک خوش آئند موقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مکالمے اور ثالثی کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں تعمیری کردار ادا کیا ہے، جس کی بنیاد تنازعات کے پرامن حل، سفارت کاری اور مذاکرات سے وابستگی پر مبنی ہماری دیرینہ پالیسی ہے۔ہم امید کرتے ہیں کہ یہ مثبت پیش رفت پورے خطے میں مثبت اثرات مرتب کرے گی اور یمن میں امن کے قیام اور سیاسی عمل کی بحالی کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کرے گی، تاکہ یمن کے عوام استحکام، ترقی اور خوشحالی کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔











