اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت میں نمایاں بہتری، حجم 452.1 ارب ڈالر ہو گیا: وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب

6

اسلام آباد، 11جون(اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی معیشت نے اندرونی و بیرونی چیلنجز، عالمی غیر یقینی صورتحال اور علاقائی کشیدگی کے باوجود نمایاں بہتری کا مظاہرہ کیا اور ملکی معیشت کا حجم بڑھ کر 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

اقتصادی سروے 2025-26 پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دستاویز پورے مالی سال کی معاشی کارکردگی کا جامع جائزہ پیش کرتی ہے۔ ان کے مطابق مالی سال کے آغاز میں مون سون بارشوں، عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال اور امریکی ٹیرف پالیسیوں کے باعث مختلف معاشی چیلنجز درپیش رہے، تاہم حکومت مؤثر حکمت عملی کے ذریعے ان مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب رہی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی شعبے میں 2.89 فیصد، صنعتی شعبے میں 3.51 فیصد اور خدمات کے شعبے میں 4.09 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔ بڑی صنعتوں (ایل ایس ایم) کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی جو گزشتہ چار برسوں کی بہترین کارکردگی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 22 میں سے 16 صنعتی شعبوں میں مثبت نمو دیکھی گئی جبکہ سیمنٹ، فرٹیلائزر، موبائل فون اور پیٹرولیم مصنوعات کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ مالی خسارہ جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک محدود رہا جبکہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں 10.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جولائی تا مارچ کرنٹ اکاؤنٹ 72 ملین ڈالر سرپلس رہا جو بیرونی شعبے میں استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ترسیلات زر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال کے اختتام تک ان کا حجم 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ گزشتہ ماہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 4.2 ارب ڈالر وطن بھیجے جبکہ 11 ماہ کے دوران ترسیلات زر 38 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہیں۔

برآمدات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ چاول اور فوڈ سیکٹر کی برآمدات میں کمی کے باعث مجموعی برآمدی کارکردگی متاثر ہوئی، تاہم گارمنٹس کی برآمدات میں 5 فیصد اور ہوم ٹیکسٹائل میں 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال کے اختتام تک آئی ٹی برآمدات 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے جو ڈیجیٹل معیشت میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں۔

وزیر خزانہ کے مطابق زرعی شعبے میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی اور گندم، چاول، گنا، چنا، آم، ہلدی اور مرچ کی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ لائیو اسٹاک سیکٹر نے 3.75 فیصد ترقی کی۔ مویشیوں کی مجموعی تعداد میں اضافے سے زرعی معیشت کو مزید تقویت ملی۔

انہوں نے بتایا کہ تعمیرات کے شعبے میں 5.7 فیصد، مواصلات کے شعبے میں 7.5 فیصد اور سماجی خدمات کے شعبے میں 6.8 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی، جبکہ بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں منفی نمو سامنے آئی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے اور اصلاحات، مالی نظم و ضبط اور برآمدات کے فروغ کے ذریعے پائیدار اقتصادی ترقی کے اہداف حاصل کیے جائیں گے۔