اسلام آباد جون 18 جون(اے پی پی):پارلیمانی سیکریٹری برائے قومی ورثہ فرح ناز اکبر نے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کو قومی مفادات کے تحفظ، معاشی ترقی اور عوامی ریلیف پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے مشکل ترین عالمی حالات کے باوجود ایک متوازن اور ترقی پسند بجٹ پیش کیا ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے فرح ناز اکبر نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران عالمی امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنگ بندی نہ ہوتی تو صورتحال تیسری عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے قیام امن کے لیے ایسا کردار ادا کیا جسے دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت نے دنیا کو امن کا پیغام دیا اور پاکستان کا وقار عالمی سطح پر بلند کیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ سمیت مختلف عالمی فورمز پر پاکستان کے کردار کو سراہا گیا۔
دوران وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امید کی ایک چھوٹی سی کرن کو استقامت کی ایک عظیم تحریک میں تبدیل کیا اور ہر آزمائش کو مؤثر قیادت کے ذریعے کامیابی کا راستہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ بعض لوگ ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں دیتے ہیں، تاہم ان کی تمام تر توجہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی ہی وہ راستہ ہے جس سے ملک کے تمام طبقات مستفید ہو سکتے ہیں اور یہ مقصد مثبت سوچ اور قومی یکجہتی کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
فرح ناز اکبر نے کہا کہ اپوزیشن اس بات پر پریشان ہے کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود حکومت نے بجٹ پیش کیا، تاہم موجودہ حکومت نے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آئندہ دو برسوں میں ترقی کا عمل مزید تیز ہوگا، پاکستان ترقی کی مثال بنے گا اور عوام خوشحال ہوں گے۔
انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان رہنماؤں نے ہمیشہ عوام سے کیے گئے وعدے پورے کیے ہیں اور یہی ان کا عہد ہے۔
اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ترقی اور خوشحالی کے ہزاروں پھول کھلیں گے اور ملک ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔
بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرح ناز اکبر نے کہا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کیا ہے تاہم اس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپر ٹیکس کے خاتمے، جائیداد کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی اور پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نے مہنگائی کو سنگل ڈیجٹ تک لانے، معاشی استحکام برقرار رکھنے اور مختلف چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
ان کے بقول حکومت نے زراعت، صنعت، آئی ٹی اور دیگر اہم شعبوں کی ترقی کے لیے بجٹ میں ٹھوس اقدامات تجویز کیے ہیں۔
فرح ناز اکبر نے کہا کہ شپنگ انڈسٹری پر عائد سیلز ٹیکس کے خاتمے سے میری ٹائم شعبے کو فروغ ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے سولر پینلز پر ٹیکس کے خاتمے کو عوام دوست اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قابل تجدید توانائی کے فروغ میں مدد ملے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ خام مال اور مشینری پر ٹیکسوں میں کمی سے صنعتی ترقی کی رفتار تیز ہوگی جبکہ این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے حصے میں اضافے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے صوبے کی ترقی کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔











