خواتین کی شمولیت کے بغیر امن کمزور بنیادوں پر استوار ہوتا ہے: سفیر عاصم افتخار

2

اقوامِ متحدہ، 17 جون (اے پی پی) : پاکستان نے خواتین کو امن کے قیام کے لیے ایک بنیادی اور اہم فریق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کی شمولیت کے بغیر قائم ہونے والا امن کمزور بنیادوں پر استوار ہوتا ہے، کیونکہ ایسا امن معاشروں کے زخموں کا مداوا، عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کی بحالی اور تنازعات کے دوبارہ جنم لینے کی مؤثر روک تھام نہیں کر سکتا۔

پاکستان نے مزید کہا کہ پائیدار امن کے لیے خواتین کی دانش، قیادت اور عملی تجربات ناگزیر ہیں، اور ان کی جگہ فیصلہ سازی کے عمل کے حاشیوں پر نہیں بلکہ اس میز پر ہونی چاہیے جہاں اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔

پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوامِ متحدہ، سفیر عاصم افتخار احمد نے یہ خیالات آج سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے برائے ’’خواتین، امن اور سلامتی‘‘ (WPS) میں قومی بیان دیتے ہوئے اظہار کیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صرف انصاف یا مساوات کا مسئلہ نہیں بلکہ مؤثریت کا سوال بھی ہے۔ جن امن معاہدوں میں خواتین شامل ہوتی ہیں وہ عموماً کمیونٹیز کی ضروریات کا بہتر احاطہ کرتے ہیں اور زیادہ دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ خواتین کی شمولیت سماجی ہم آہنگی، تعلیم، صحت، روزگار، انصاف، مفاہمت اور شہریوں کے تحفظ جیسے اہم شعبوں پر روشنی ڈالتی ہے، اور ان عناصر کے بغیر امن کی جڑیں مضبوط نہیں ہو سکتیں۔

انہوں نے خواتین، امن اور سلامتی کے ایجنڈے کو سلامتی کونسل کے سب سے انقلابی وعدوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ یہ اب بھی اس کے سب سے نامکمل وعدوں میں شمار ہوتا ہے، جس کے باعث خواتین آج بھی تنازعات، بے دخلی، غیر ملکی قبضے، غربت اور جنسی تشدد کے سنگین نتائج بھگت رہی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ خواتین، امن اور سلامتی کے ایجنڈے پر عملدرآمد عملی، حالات سے ہم آہنگ اور قومی ملکیت کے اصول پر مبنی اقدامات کے ذریعے ہونا چاہیے۔

اس ایجنڈے کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا ذکر کرتے ہوئے سفیر عاصم نے کہا کہ پاکستانی خواتین نے سفارت کاری، امن مشنز، سیاست، عوامی خدمت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول سوسائٹی اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی خواتین امن کاروں نے اقوامِ متحدہ کے مختلف مشنز میں پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کا مظاہرہ کیا ہے، جو جامع امن اور سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کا عملی اظہار ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ خواتین امن کے عمل میں محض ایک اضافی آواز کے طور پر شامل نہیں ہوتیں بلکہ وہ امن کو حقیقی معنوں میں مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ وہ خاندانوں، معاشروں اور آنے والی نسلوں کے خدشات اور توقعات کو ان کمروں تک لے کر آتی ہیں جہاں اکثر طاقت کی سیاست غالب ہوتی ہے۔ اگر ہم پائیدار امن چاہتے ہیں تو خواتین کو ابتدا ہی سے فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ بنانا ہوگا تاکہ وہ ان فیصلوں کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔