اسلام آباد، 18 جون)اے پی پی):ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس بجٹ بحث کے سلسلے میں جاری رہا، جس میں مختلف اراکین نے ترقیاتی منصوبوں، اقتصادی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق اپنی آراء پیش کیں۔
اجلاس کے دوران اراکین نے پاکستان کی برآمداتی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت پر زور دیا۔ خاص طور پر تھل آرگینک فوڈ پارک کے منصوبے پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جسے وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت وزیراعلیٰ پنجاب اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کو پیش کیا جا چکا ہے۔ اراکین کے مطابق اگر اس منصوبے پر مؤثر عملدرآمد کیا جائے تو یہ زرعی ویلیو چین کو مضبوط بنانے اور عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ایوان میں ملک کے معدنی وسائل کے وسیع امکانات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اراکین نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور بہتر حکمتِ عملی کے ذریعے ان وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا کر برآمدات اور زرمبادلہ میں اضافہ ممکن ہے۔ اس شعبے کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم ترقیاتی موقع قرار دیا گیا۔
اسپیشل اکنامک زونز (SEZs) کے قیام پر بھی زور دیا گیا اور کہا گیا کہ اگر انہیں عالمی معیار کے مطابق ترقی دی جائے تو یہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور برآمدات پر مبنی صنعتی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح یونیورسٹی کیمپسز کے قیام اور تعلیمی شعبے کی بہتری کو بھی انسانی وسائل کی ترقی کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
اجلاس میں اراکین نے اس بات کو تسلیم کیا کہ موجودہ وفاقی بجٹ مشکل معاشی حالات میں پیش کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ مسلسل اصلاحات، بہتر حکمرانی اور وفاق و صوبوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی ملک کو معاشی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گل آباد لوئر دیر کی طالبات اور فیکلٹی ممبران نے قومی اسمبلی کادورہ کیا اور ایوان کی کارروائی کا مشاہدہ کیا۔ قومی اسمبلی آمد پر ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے ان کا خیر مقدم کیا جبکہ اراکین نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔قومی اسمبلی میں بجٹ ہر بحٹ جاری ہے۔











