اسلام آباد،17 جون)اے پی پی): خواتین پارلیمانی کاکس کی سیکرٹری اور رکن قومی اسمبلی رانا انصر نے کہا ہے کہ ملک کو محض بجٹ پیش کرنے سے آگے بڑھ کر مؤثر پالیسی سازی کی ضرورت ہے تاکہ معیشت کو دیرپا بنیادوں پر مستحکم کیا جا سکے۔
بدھ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے رانا انصر نے کہا کہ موجودہ بجٹ اگرچہ محنت سے تیار کیا گیا ہے، تاہم اس کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچانے کے لیے مزید اقدامات درکار ہیں۔انہوں نے دودھ سمیت بعض اشیائے ضروریہ پر ٹیکس پالیسی پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عام شہری اور کم آمدنی والے طبقات پر بوجھ کم ہونا چاہیے تاکہ معاشی توازن برقرار رہ سکے۔انہوں نے بچوں کی غذائی ضروریات اور طبی فارمولوں پر ٹیکس میں نرمی کی بھی تجویز دی اور کہا کہ صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کراچی میں پانی کے سنگین بحران کی طرف بھی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
رانا انصر نے کہا کہ پانی کا مسئلہ قومی سلامتی اور بقا کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس کے حل کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔انہوں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے کردار کو مؤثر بنانے اور صفائی و شہری سہولیات کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پانی جیسے بنیادی مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو آئندہ دنوں میں یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔











