قومی اسمبلی میں عوامی رویوں، پارلیمانی وقار اور سکیورٹی پروٹوکول پر بحث، خواجہ آصف کا اظہارِ تشویش

2

اسلام آباد، 21 جون(اے پی پی ): قومی اسمبلی کے اجلاس میں پارلیمنٹ ہاؤس میں عوامی آمد و رفت، سکیورٹی پروٹوکول اور ارکانِ اسمبلی کے رویوں سے متعلق بحث جاری رہی، جس کے دوران وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایوان کے تقدس اور عوامی تاثر کے حوالے سے تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اقتدار ایک عارضی ذمہ داری ہے، کبھی نمائندے حکومتی اختیارات کے ساتھ آگے ہوتے ہیں اور کبھی اپوزیشن میں ہوتے ہیں، اس لیے ہر مرحلے پر رویوں میں توازن اور شائستگی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود چند سو افراد کے رویے پورے ملک کے لیے ایک مثال بنتے ہیں، اس لیے ان کے اعمال کو عوام قریب سے دیکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں عوام، ارکان کے مہمانوں اور دیگر افراد کی موجودگی کے دوران بعض اوقات غیر ضروری حرکات اور غیر رسمی رویے ایوان کے وقار پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس سے باہر عوام میں منفی تاثر پیدا ہوتا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پارلیمانی سکیورٹی اور پروٹوکول کے حوالے سے واضح اور سخت ضوابط ہونے چاہئیں تاکہ غیر ضروری نقل و حرکت اور غیر رسمی رویوں کو روکا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کا تقدس ہر صورت برقرار رکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نمائندوں کے طرزِ عمل کا براہِ راست اثر ان کے عوامی تاثر پر پڑتا ہے، اس لیے ارکان کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرناچاہیے اور ایوان کے اندر اور باہر ایک باوقار طرزِ عمل اپنانا چاہیے۔

اجلاس میں اسپیکر کی ہدایات اور وزیر دفاع کے ریمارکس کے بعد پارلیمانی نظم و ضبط، سکیورٹی اور پروٹوکول کے معاملات پر سنجیدہ غور و خوض کا ماحول دیکھنے میں آیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں عوام، ارکانِ اسمبلی کے مہمانوں اور فیملیز کی موجودگی کے باعث بعض اوقات سکیورٹی اور نظم و ضبط کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جنہیں سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی سکیورٹی کو ہر صورت مؤثر اور مربوط ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بعض اوقات سرکاری گاڑیوں اور خاص طور پر گرین نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال اور پارلیمانی حدود میں نقل و حرکت سے غیر مناسب صورتحال پیدا ہوتی ہے،

جس سے ایوان کے ماحول پر منفی اثر پڑتا ہے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے واضح قواعد و ضوابط کی ضرورت ہے تاکہ غیر ضروری آمد و رفت اور پروٹوکول کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ وزراء اور دیگر سرکاری شخصیات کے لیے بھی پروٹوکول کے حوالے سے واضح ہدایات ہونی چاہئیں، تاکہ پارلیمنٹ کے اندر اور اس کے اطراف ایک منظم اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ جھنڈے والی سرکاری گاڑیوں کے استعمال اور نمائش سے متعلق بھی رہنما اصول وضع کیے جانے چاہئیں تاکہ غیر ضروری نمائش اور غلط تاثر سے بچا جا سکے

وزیر دفاع نے زور دیا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کی سکیورٹی، مہمانوں کے داخلے اور اندرونی نقل و حرکت کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں تاکہ ایوان کی وقار اور سلامتی دونوں کو یقینی بنایا جا سکے اجلاس میں اسپیکر کے ریمارکس اور وزیر دفاع کی گفتگو کے بعد ایوان میں پارلیمانی نظم و ضبط اور سکیورٹی انتظامات پر تفصیلی غور و خوض کا ماحول دیکھنے میں آیا۔