قومی اسمبلی میں پر بحث ، شفاف انتخابات ، پوسٹل ادارے، کمیٹیوں اور قرضوں پر اظہارِ خیال اور عوامی مسائل کے حل پر زور

6

 

اسلام آباد جون 20: قومی اسمبلی کے اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے لیے وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے ادا کیے جانے والے اخراجات (Charged Expenditure) پر بحث کے دوران  رکنِ قومی اسمبلی نعیمہ  کشور خان نے مختلف مالی اور ادارہ جاتی امور پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔

نعیمہ  کشور خان نے اپنے خطاب میں پوسٹل سروسز سمیت بعض سرکاری اداروں کی Charged Expenditure میں شمولیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ واضح ہونا چاہیے کہ کن اداروں کو اس مد میں شامل کیا جاتا ہے اور ان کی مالی ضرورت کی بنیادی وجوہات کیا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی ادارے کی نجکاری کی بات کی جا رہی ہو تو اس کے ملازمین اور مستقبل کے ڈھانچے کے حوالے سے بھی واضح پالیسی سامنے آنی چاہیے۔

انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی کارکردگی پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بعض کمیٹیاں اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہیں کر رہیں، جس سے پارلیمانی نگرانی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق کمیٹی نظام کو زیادہ فعال اور شفاف بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اپوزیشن اور حکومت دونوں کا کردار مؤثر ہو سکے

خطاب کے دوران انہوں نے ملک کے اندرونی و بیرونی قرضوں اور مالیاتی بوجھ پر بھی گفتگو کی۔ نایمہ کشور خان نے کہا کہ بینکوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے حاصل کیے گئے قرضوں پر بلند شرحِسود معیشت پر دباؤ بڑھا رہی ہے، جس سے مالی

خودمختاری متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے سودی نظام سے متعلق عدالتی فیصلوں اور اصلاحات کی ضرورت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے واضح اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے لیے وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے ادا کیے جانے والے اخراجات (Charged Expenditure) پر بحث کے دوران  رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نثار  نے جمہوری عمل، عوامی نمائندگی اور ادارہ جاتی اصلاحات کی اہمیت پر زور دیا۔

ن کا کہنا تھا ا کہ پارلیمان میں ایسے نمائندے آنے چاہئیں جو حقیقی معنوں میں عوام کی ترجمانی کریں اور ایوان میں کسانوں، عام شہریوں، اور کم آمدنی والے طبقات کے مسائل کو اجاگر کریں۔

انہوں نے تعلیم، صحت، بنیادی سہولیات اور عوامی ریلیف کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

تقریر میں ملک کے انتخابی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ماضی میں پاکستان کے انتخابات پر شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں، تاہم موجودہ وقت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی و ادارہ جاتی فریق مل کر ایک مضبوط اور قابل اعتماد جمہوری نظام کی طرف بڑھیں ان کا مزید کہنا تھا  کہ اگر پاکستان کو ایک مستحکم معاشی نظام، قومی یکجہتی اور عالمی سطح پر بہتر مقام دلانا ہے تو جمہوری عمل کی شفافیت اور اداروں پر اعتماد کو مضبوط بنانا ہوگا

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان  نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے لیے وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے ادا کیے جانے والے “Charged Expenditure” پر بحث میں حصہ لیا۔ علی محمد خان کی جانب سے Charged Expenditure کے آئینی دائرہ کار، پارلیمانی نگرانی اور حکومتی مالیاتی فیصلوں پر اظہار خیال کیا۔

اجلاس میں ارکانِ اسمبلی نے مختلف آئینی، انتظامی اور مالی امور پر گفتگو کی اور حکومتی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔ اپوزیشن کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ریاستی فیصلوں، ادارہ جاتی توازن اور خطے کی صورتحال کے تناظر میں حکومت کی پالیسیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔