وزیرِ خزانہ کا قومی اتفاقِ رائے پر زور، پارلیمانی تعاون اور بجٹ اصلاحات پر اظہارِ تشکر

5

اسلام آباد جون 20:اسلام آباد: قومی اسمبلی میں بجٹ 2026-27 پر بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپوزیشن کی جانب سے معاشی اعداد و شمار اور شرح نمو سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے استعمال کی جانے والی تمام معاشی پیمائشیں بین الاقوامی

معیار اور مستقل طریقہ کار کے مطابق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گراس نیشنل انکم (GNI) دراصل نومینل جی ڈی پی اور بیرون ملک سے حاصل ہونے والی نیٹ فیکٹر انکم کا مجموعہ ہوتی ہے، جس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر بھی شامل ہوتی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ فی کس آمدنی اور دیگر معاشی اشاریوں کے حساب میں آبادی کے تخمینے 2023 کی مردم شماری، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیز اور وزارتِ قومی صحت کی جانب سے جاری کردہ آبادی کے تخمینوں کی بنیاد پر استعمال کیے جاتے ہیں۔

وزیر خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ معاشی اعداد و شمار مرتب کرنے کے لیے استعمال ہونے والی میتھڈالوجی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہی طریقہ کار سابق حکومتوں کے ادوار میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے اور اس حوالے سے مختلف ادوار کے اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ بھی دستیاب ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت معاشی اشاریوں کو سیاسی بحث کا موضوع بنانے کے بجائے حقائق اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق پیش کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ ان کے مطابق نیشنل اکاؤنٹس اور جی ڈی پی کے تخمینے وفاقی اور صوبائی اداروں، اسٹیٹ بینک، ماہرین معیشت اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مرتب کیے جاتے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں استحکام کی بنیاد رکھی جا چکی ہے اور اب توجہ اس استحکام کو پائیدار اقتصادی ترقی میں تبدیل کرنے پر مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں شامل اقدامات کا مقصد سرمایہ کاری، برآمدات، روزگار اور پیداواری شعبوں کو فروغ دینا ہے تاکہ معیشت مزید مضبوط ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے مشکل فیصلوں کے ذریعے معیشت کو درست سمت میں گامزن کیا ہے اور آنے والے عرصے میں اس کے مثبت نتائج مزید نمایاں ہوں گے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حقیقی شرح نمو (Real GD) Growth) معاشی سرگرمیوں میں ہونے والی اصل تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے، جسے قیمتوں میں تبدیلی کے اثرات کو بنیادی سال (Base Year) کی مستقل قیمتوں پر ایڈجسٹ کرنے کے بعد شمار کیا جاتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کی جانب سے رپورٹ کردہ 3.7 فیصد جی ڈی پی گروتھ ریٹ 2015-16 کی مستقل قیمتوں کی بنیاد پر شمار کیا گیا ہے، جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ اور رائج طریقہ کار ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں منظوری کے بعد جاری کیے گئے، جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ماہرینِ معیشت، اکیڈمیا اور دیگر متعلقہ اداروں کی نمائندگی موجود ہوتی ہے، لہٰذا ان اعداد و شمار کی ساکھ پر سوال اٹھانا درست نہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حقیقی جی ڈی پی اور نومینل جی ڈی پی دو مختلف پیمانے ہیں جنہیں ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق نومینل جی ڈی پی موجودہ مارکیٹ قیمتوں کی بنیاد پر شمار کی جاتی ہے جبکہ حقیقی جی ڈی پی

معیشت کی اصل کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025 میں پاکستان کی معیشت کا حجم 404.2 ارب امریکی ڈالر تھا جو مالی سال 2026 میں بڑھ کر 492.1 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معیشت کے حجم میں یہ اضافہ حکومتی پالیسیوں، مالیاتی استحکام اور معاشی اصلاحات کا نتیجہ ہے۔

وزیر خزانہ نے زور دیا کہ حکومت شفافیت اور حقائق کی بنیاد پر معاشی فیصلے کر رہی ہے اور بجٹ میں شامل اقدامات کا مقصد معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت معیشت کی بہتری، سرمایہ کاری کے فروغ اور عوامی فلاح کے لیے اپنی اصلاحاتی پالیسیوں کا سفر جاری رکھے گی۔

وزیرِ خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے 4 فیصد اقتصادی شرح نمو اور 8.2 فیصد مہنگائی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ محصولات میں اضافے اور مالی خسارے میں کمی کے لیے جامع اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں دفاعی ضروریات، ترقیاتی ترجیحات اور سماجی تحفظ کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کے مطابق علاقائی صورتحال اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے پیش نظر دفاعی اخراجات میں اضافہ کیا گیا، جبکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیرِ خزانہنے کہا کہ حکومت نے مشکل معاشی حالات میں ذمہ دارانہ فیصلے کیے ہیں اور بجٹ کا مقصد عوام پر غیر ضروری بوجھ ڈالے بغیر اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، برآمدات بڑھانے اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کی برآمدات 48 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچیں، جبکہ رواں مالی سال میں اب تک 1.6 ارب ڈالر کی اضافی برآمدات حاصل کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی معاشی حکمت عملی کا بنیادی محور برآمدات میں اضافہ ہے اور بجٹ میں ایسے اقدامات شامل کیے گئے ہیں جو ایکسپورٹ لیڈ گروتھ کو مزید تیز کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد معیشت کو پیداواری بنیادوں پر استوار کرنا، پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ماضی میں دستاویزی معیشت، کارپوریٹ سیکٹر اور دکاندار طبقے پر ٹیکس کا زیادہ بوجھ ڈالا جاتا رہا، تاہم موجودہ بجٹ میں حکومت نے اس سوچ کو تبدیل کرتے ہوئے ٹیکس کے بوجھ میں اضافے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور کٹوتیوں کے خاتمے پر توجہ مرکوز کی ہے۔

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ گزشتہ بجٹ میں شروع کیے گئے اصلاحاتی عمل کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے صنعتوں، برآمد کنندگان اور پیداواری شعبوں پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور زرعی شعبے کے لیے رعایتی قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے ریٹیل سیکٹر کو آسان طریقہ کار کے ذریعے نظام کا حصہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ ٹیکس قوانین پر عملدرآمد اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے

جامع اقدامات کیے گئے ہیں۔وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت گزشتہ دو برسوں سے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔اس سلسلے میں ٹیکس پالیسی کو ٹیکس انتظامیہ سےالگ کیا گیا ہے اور اب ایک نیا ٹیکس آپریٹنگ ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت ٹیکس دہندگان اور ٹیکس افسران کے درمیان براہِ راست

رابطے کا خاتمہ ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ آڈٹ، تشخیص اور اپیل سمیتتمام امور جدید ڈیجیٹل اور فیس لیس نظام کے تحت انجام دیے جائیں گے۔ ان اصلاحات کا مقصد ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے شفافیت کو فروغ دینا، صوابدیدی اختیارات میں کمی لانا، ہراسمنٹ کے واقعات کا سدباب کرنا اور ٹیکس قوانین پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔

وزیرِ خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے اور برآمدات کے فروغ کے ذریعے ملک کو معاشی استحکام فراہم کرنے کے لیے اصلاحات کا سفر جاری رکھے گی۔وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ موجودہ حکومت نے محض دو سال کے عرصے میں 14 ارب ڈالر کے اضافی محصولات جمع کرکے ایک اہم مالیاتی کامیابی حاصل کی ہے۔

انہوں نے ایوان کو بتایا کہ 1988 سے 2011 تک 23 سال کے دوران 14 ارب ڈالر کے اضافی محصولات حاصل کیے گئے، جبکہ 2011 سے 2024 تک کے 13 برسوں میں بھی اتنی ہی اضافی آمدن جمع ہوئی۔

اس کےبرعکس موجودہ حکومت نے صرف دو سال میں 14 ارب ڈالر کے اضافی محصولات اکٹھے کیے ہیں۔

وزیرِ خزانہ نے اس کامیابی کا سہرا وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت، حکومتی ٹیم کی کاوشوں اور پارلیمنٹ کے تعاون کو دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران اقتصادی تنظیمِ نو کے منصوبے پر عملدرآمد کیا گیا اور معاشی ایجنڈے کی تکمیل کےلیے مالی وسائل کی فراہمی کو اولین ترجیح دی گئی۔انہوں نے کہا کہ بجٹ بحث کے دوران متعدد اراکینِ پارلیمنٹ نے زرعی شعبے کے مسائل اور امکانات پر تفصیلی گفتگو کی، کیونکہ زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت کسانوں اور زرعی شعبے کی ترقی کے لیے مالیاتی اور ترقیاتی پیکجز متعارف کرا رہی ہے۔محمد اورنگزیب نے بتایا کہ زرعی پیداوار میں اضافے اور چھوٹے کاشتکاروں کی معاونت کے لیے ایک خصوصی زرعی اسکیم شروع کی گئی ہے، جس کے تحت 300 ارب روپے کے بلاسود اور بغیر کسی کلیکشن فیس کے قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام سے تقریباً ساڑھے سات لاکھ چھوٹے کاشتکار مستفید ہو رہے ہیں، جس سے زرعی پیداوار، دیہی معیشت اور غذائی تحفظ کو تقویت ملے گی۔وزیرِ خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت برآمدات میں اضافے، ٹیکس نظام میں اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور زرعی شعبے کی مضبوطی کے ذریعے ملک کو پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے بجٹ تجاویز اور معاشی پالیسیوں کے ذریعے ملک کو استحکام کی راہ پر گامزن کیا ہے اور اس سفر میں پاکستانی عوام کے تعاون کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے حصول میں عوام نے صبر، اعتماد اور بھرپور تعاون کا مظاہرہ کیا، جس پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔وزیرِ خزانہ نے کہا کہ جیسے ہی حکومت کو مالی وسائل دستیاب ہوئے، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں ان وسائل کو عوامی ریلیف کے لیے استعمال کرنے کو ترجیح دی گئی۔ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف فراہم کیا گیا جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی صرف مالی فوائد تک محدود نہیں بلکہ عوام کو سہولیات کی فراہمی بھی اس کا اہم حصہ ہے۔ اسی سلسلے میں پنشنرز کے لیے جدید اور آسان سہولیات متعارف کرائی گئی ہیں۔

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ماضی میں عمر رسیدہ پنشنرز کو بائیو میٹرک تصدیق کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کے فنگر پرنٹس مدہم ہو جاتے ہیں، جس سے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کے حصول میں دشواری پیش آتی تھی۔ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے حکومت نے فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی متعارف کرا دی ہے۔

وزیرِ خزانہ کے مطابق اب پنشنرز گھر بیٹھے پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے اپنی شناخت اور پروف آف لائف کی تصدیق کر سکیں گے، جس سے انہیں دفاتر کے چکر لگانے یا بائیو میٹرک مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام بزرگ شہریوں کو سہولت فراہم کرنے اور سرکاری خدمات کو جدید ڈیجیٹل نظام سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت معاشی اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن، عوامی سہولت اور شفاف طرزِ حکمرانی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور آئندہ بھی عوامی فلاح و بہبود کے لیے ایسے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو مضبوط بنانے اور تعلیمی معیار میں بہتری کے لیے اہم اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹینور ٹریک سسٹم کے تحت یونیورسٹی پروفیسرز، ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کی تنخواہوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت انہیں ریگولر اسکیل کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ تنخواہ دی جائے گی۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں باصلاحیت اساتذہ کو برقرار رکھنا اور تحقیق و تدریس کے معیار کو بہتر بنانا ہےمحمد اورنگزیب نے کہا کہ پارلیمان کی قائمہ کمیٹی برائے انتظامی اصلاحات نے اس حوالے سے اہم تجاویز پیش کیں، جن پر بجٹ بحث کے دوران بھی تفصیل سے گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی متعدد سفارشات کو موجودہ اور آئندہ ٹیکس و مالیاتی پالیسی سازی میں شامل کیا جا رہا ہے، جو پارلیمانی نگرانی اور مشاورت کے نظام کو مزید مؤثر بناتا ہے۔انہوں نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کفایت شعاری اور مالی نظم و ضبط کی عملی مثال قائم کی ہے۔

وزیرِ خزانہ کے مطابق سینیٹ کی جانب سے کفایت شعاری کے تحت نمایاں بچت کی گئی، جو پارلیمانی اداروں کے ذمہ دارانہ مالی کردار کی عکاسی کرتی ہےانہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات پارلیمنٹ، حکومت اور کمیٹیوں کے درمیان مثبت تعاون کا نتیجہ ہیں، جو ملک میں بہتر گورننس، مالی شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ وزیرِ خزانہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا تاکہ پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ معیشت کی جانب لے جایا جا سکے۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے وزیراعظم، پارلیمان اور تمام متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بجٹ کی تیاری اور منظوری میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ سمیت تمام اراکینِ پارلیمنٹ کی تجاویز اور رہنمائی نے کلیدی کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ مالیاتی امور سے متعلق چیئرمین کمیٹی، ٹیکس پالیسی آفس اور ان کی ٹیم نے بجٹ تجاویز کے جائزے اور پالیسی سازی کے عمل میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق بجٹ کو بہتر بنانے میں پارلیمانی نگرانی اور تکنیکی معاونت دونوں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی معاشی بحالی اور استحکام کے لیے قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ وہ ملک کی معاشی ترقی کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار جاری رکھیں تاکہ پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ مستقبل کی طرف لے جایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اقتصادی اصلاحات، ٹیکس نظام کی بہتری، برآمدات کے فروغ اور سرمایہ کاری کے ذریعے معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جائے، جس میں پارلیمان اور تمام اداروں کا تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔وزیرِ خزانہ نے اپنی تقریر کے اختتام پر پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی یکجہتی اور اجتماعی کوششوں سے ہی ملک کو درپیش معاشی چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔