لاہور،30 جون ( اے پی پی ): متروکہ وقف املاک بورڈ کے زیرِ اہتمام مہاراجہ رنجیت سنگھ کی 187ویں برسی کی مذہبی تقریبات اختتام پذیر ہونے کے بعد بھارت سے آئے سکھ یاتری 10 روزہ دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ہوگئے۔واہگہ بارڈر پر سیکرٹری متروکہ وقف املاک بورڈ ناصر مشتاق نے پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی (PSGPC) سردار رمیش سنگھ اروڑہ اور کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ یاتریوں کو الوداع کہا ۔ ڈپٹی سیکرٹری شرائنز فراز عباس ودیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ روانگی کے موقع پر سکھ یاتریوں نے پاکستان میں ملنے والی محبت، عزت، مذہبی آزادی اور مثالی مہمان نوازی پر حکومتِ پاکستان، متروکہ وقف املاک بورڈ اور پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ یاتریوں نے کہا کہ پاکستان میں قیام کے دوران انہیں اپنے گھر جیسا ماحول ملا اور ان کے لیے رہائش، لنگر، ٹرانسپورٹ، طبی سہولیات، صفائی، سیکیورٹی اور دیگر انتظامات بہترین انداز میں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بسنے والے سکھ پاکستان کے مقدس مذہبی مقامات کی یاترا کے خواہشمند ہیں اور وہ واپس جا کر پاکستان کے بارے میں امن، محبت، بھائی چارے، مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا مثبت پیغام دنیا بھر میں پہنچائیں گے۔ پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ یاتری پاکستان سے محبت اور عقیدت کا پیغام لے کر جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 50 تاریخی گوردواروں کی تزئین و آرائش اور بحالی کا کام جاری ہے۔ انہوں نے چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمرالزمان اور پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یاتریوں کی خدمت اور سہولیات کی فراہمی قابلِ تحسین ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری متروکہ وقف املاک بورڈ ناصر مشتاق نے کہاا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فول پروف سیکیورٹی انتظامات یقینی بنائے ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان مذہبی سیاحت کے فروغ، بین المذاہب ہم آہنگی اور اقلیتوں کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ تقریبات کے اختتام پر بھارتی سکھ یاتری خوشگوار یادوں، نیک تمناؤں اور پاکستان کے لیے محبت و احترام کے جذبات کے ساتھ اپنے وطن واپس روانہ ہوگئے۔











