اسلام آباد۔ 19 جون (اے پی پی): وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کو عملی جامہ پہنائے جانے پر قوم، سیاسی اور عسکری قیادت کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو جو عزت اور مرتبہ ملا ہے قوموں کو صدیوں میں ایسی کامیابی نصیب نہیں ہوتی، ہم نے دنیا کو قومی یکجہتی اور اتحاد کا پیغام دینا ہے اور اس عظیم فتح کا تقاضا ہے کہ ہم سب ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک ہی صف میں کھڑے ہوں۔ اس معاہدے سے دنیا میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے جس کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے قیمتوں میں نمایاں کمی کا آج اعلان کیا جائے گا، ایران کے صدر مسعود پزشکیان کو دورہ پا کستان کی دعوت دی ہے جبکہ ایرانی صدر نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی دعوت دی ہے۔
جمعہ کو قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ خالقِ کائنات کا بے حد شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے پاکستان کو یہ عزت عطا فرمائی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، اس کے لیے پوری پاکستانی قوم اور اس ایوان کے تمام اراکین کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کئی ممالک اور قومیں ایسی عزت کی تلاش میں صدیاں گزار جاتی ہیں لیکن وہ اس طرح سے عزت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتیں، آج پوری دنیا میں پاکستان کا نام عزت اور وقار سے گونج رہا ہے۔ پاکستان کے اس کردار پر اس ایوان سے ایک متفقہ قرارداد جانی چاہئے جو اس عظیم کامیابی کے لیے اس ہاؤس کی جانب سے بھرپور تائید ہو گی اور اس سے دنیا میں یکجہتی، اتفاق اور اتحاد کا پیغام جائے گا۔ انہوں نے اپوزیشن کو بھی دعوت دی کہ وہ سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر مل کر اس مبارک دن اللہ کا شکر ادا کریں اور دنیا کو بتائیں کہ سیاسی اختلافات کے ساتھ ساتھ قومی مفادات کے لیے ہم ایک ہیں اور ایک رہیں گے۔ انہوں نے پاکستان کی اس کامیابی کا اعتراف علامہ اقبال کے اس شعر سے کیا کہ
” ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا“
وزیرِاعظم نے کہا کہ اس عظیم کامیابی میں سب سے کلیدی کردار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ادا کیا، انہوں نے امن کے قیام کے لیے ڈھائی مہینے دن رات کام کیا؛ کئی مواقع ایسے آئے کہ جب ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جنگ بندی ختم ہونے والی ہے تاہم خدائے بزرگ و برتر کو پاکستان کو عزت اور وقار دینا مقصود تھا، اسی وجہ سے وہ پہاڑ نما مسائل اور مشکلات بھی حل ہوئیں، یہ قوم کا کریڈٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار اور وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس عمل میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں، ان کے اراکین، اتحادی جماعتوں اور ان کے قائدین کو بھی مبارکباد دی۔
وزیرِاعظم نے بتایا کہ گزشتہ روز ان کی ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے آدھا گھنٹہ ٹیلی فون پر بات ہوئی جس میں انہوں نے پاکستان اور پاکستان کے عوام کا ایران کی حکومت اور ایرانی قوم کی جانب سے دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشکل وقت میں ایران کا ساتھ دیا اور پاکستان ایران کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا۔ ایرانی صدر نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیرِاعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایرانی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جس پر انہوں نے پہلی فرصت میں پاکستان آنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین، جو 3 یا 4 جولائی کو ہونی ہے، اس میں شرکت کی دعوت دی ہے جس پر انہیں کہا ہے کہ یہ ہمارا فرض ہے اور ان شاء اللہ وہاں پر پاکستان موجود ہو گا، پاکستان اور ایران دو ایسے بھائی ہیں جو آنے والے وقتوں میں انتہائی قربت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے اور اس جنگ بندی کے نتیجے میں اس خطے میں معاشی خوشحالی آئے گی۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ خطے میں جنگ بندی کے بعد اب تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ رہی ہیں اور اس میں مزید کمی آئے گی، اس پر ہفتہ وار نظرثانی آج ہو گی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب تین ماہ قبل جنگ چھڑی تو اس وقت تیل کی عالمی قیمتوں کو آگ لگ گئی اور مہنگائی کا ایک طوفان کھڑا ہوا، پاکستان کے عوام نے جس طرح اس دوران تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے، اس پر پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ حکومت نے مہنگائی کے اس طوفان سے عام آدمی کو بچانے کے لیے حتیٰ المقدور کوشش کی اور پٹرولیم مصنوعات پر 128 ارب روپے کی سبسڈی دی تاکہ عوام پر مہنگائی کا کم سے کم بوجھ پڑے۔ اب وہ سیاہ رات ختم ہونے کو ہے اور ترقی و خوشحالی کا سورج طلوع ہونے کو ہے۔
وزیرِ اعظم نے صوبائی حکومتوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشکل وقت میں وفاق کی بھرپور معاونت کی، انہوں نے وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ منصوبہ بندی، نائب وزیرِاعظم، سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری پٹرولیم کا بھی شکریہ ادا کیا کہ سب نے مل کر اس میں اپنا حصہ ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ ان مشکل ترین حالات کے باوجود پاکستان کے پیٹرول پمپوں پر لائنیں نہیں لگیں، کوئی بلوے نہیں ہوئے جبکہ دیگر ممالک کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ وزیرِاعظم نے تمام دوست ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے امن کے قیام میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ انہوں نے ایران کی لیڈرشپ، امریکا کی قیادت بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ، برادر ملک قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور چین کی لیڈرشپ کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کا اس عمل میں بڑا کردار رہا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ یہ عزت اور وقار قوموں کو صدیوں میں نہیں ملتی، ہمیں اس عزت پر اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہئے اور اس کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ اس ایوان سے قومی یکجہتی اور اتحاد کا پیغام جانا چاہئے تاکہ ہمارے دشمن ہکا بکا رہ جائیں اور دوستوں کی ہمت بڑھے۔











