اسلام آباد، 15 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں آبادی میں تیزی سے اضافہ ملک کی ترقی، معیشت اور صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے،اس لیے آبادی میں متوازن اضافے کے لیے قومی سطح پر مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
ورلڈ پاپولیشن ڈے کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں ہر سال تقریباً 67 لاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے، جو نیوزی لینڈ کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی اس وقت قومی اثاثہ بنتی ہے جب اس کی تعلیم، تربیت اور صحت کے لیے مناسب وسائل موجود ہوں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک میں کروڑوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ بچوں میں غذائی کمی کی شرح تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انفراسٹرکچر اور صحت کا نظام آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال حمل اور زچگی کے دوران تقریباً 11 ہزار خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہیں، جبکہ روزانہ اوسطاً 1300 بچوں کی اموات ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماں اور بچے کی جان بچانا قومی ترجیح ہونی چاہیے اور اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ خاندانی منصوبہ بندی کو رزق کے مسئلے سے جوڑنا درست نہیں کیونکہ رزق دینے کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے، تاہم ماں اور بچے کی صحت کا تحفظ بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند خاندان اور متوازن آبادی ہی ایک مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آبادی میں اضافے کے مسئلے پر عوامی آگاہی، مؤثر مشاورت اور سہولیات کی فراہمی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی ایک ادارے یا حکومت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ مسئلہ ہے اور اس کے حل کے لیے تمام طبقات کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔











