بڑھتی آبادی پر قابو پانے اور خاندانی منصوبہ بندی کو عام کرنے کی ضرورت ہے، سائرہ افضل تارڑ

3

اسلام آباد، 15 جولائی (اے پی پی): رکن قومی اسمبلی سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کو اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے اور آبادی میں تیز رفتار اضافے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مؤثر خاندانی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔

عالمی یومِ آبادی کے موقع پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاشرے میں خاندانی منصوبہ بندی اور مانع حمل ذرائع کے حوالے سے پائے جانے والے منفی تصورات اور غلط فہمیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں تعداد سے زیادہ بچوں کی بہتر تربیت، صحت اور تعلیم اہم ہے۔

سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ غذائی قلت کا شکار ماؤں اور بچوں کی صحت کے مسائل مستقبل کی نسلوں پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں، اس لیے ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں ماؤں اور بچوں کی جانیں بچانے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں محکمہ صحت اور محکمہ آبادی کے انضمام سے خدمات کی فراہمی بہتر ہوئی ہے اور “کلینکس آن ویلز” سمیت مختلف پروگراموں کے ذریعے خاندانی منصوبہ بندی کی سہولتیں عوام کی دہلیز تک پہنچائی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق جون 2026 تک پنجاب میں 44 لاکھ سے زائد خاندانوں کو خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات فراہم کی جا چکی ہیں۔

انہوں نے نوجوان جوڑوں تک رسائی بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 16 سے 34 سال عمر کے افراد پر توجہ مرکوز کر کے آبادی میں توازن اور بہتر سماجی ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف پھیلائے جانے والے منفی پراپیگنڈے کو ناکام بنانا اور آبادی کے مسئلے پر سنجیدہ اقدامات کرنا وقت کی ضرورت ہے۔