*اقوام متحدہ، 14 جولائی ( اے پی پی): پاکستان نے اس امر پر زور دیا ہے کہ قدرتی وسائل کا نظم و نسق اس انداز میں انجام دیا جائے کہ وہ جبر، تنازع اور جغرافیائی سیاسی مسابقت کا ذریعہ بننے کے بجائے پائیدار ترقی، مشترکہ خوشحالی اور امن کے فروغ کا وسیلہ ثابت ہوں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے آریا فارمولا اجلاس بعنوان “قدرتی وسائل اور امن کے درمیان موجود ضابطہ جاتی خلا: بنیادیں اور تناظر” سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے قدرتی وسائل پر ریاستوں کے مستقل خودمختار حق کی پاکستان کی دیرینہ حمایت کا اعادہ کیا، جو بین الاقوامی قانون کے مطابق تسلیم شدہ اصول ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے اہم معدنیات اور دیگر اسٹریٹجک قدرتی وسائل کی بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ان وسائل کے حصول کے لیے غیر ذمہ دارانہ مسابقت بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے نئے خطرات اور چیلنجز کو جنم دے سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قدرتی وسائل سے متعلق کسی بھی ضابطہ جاتی پیش رفت کو جامع، رکن ممالک کی قیادت میں اور موجودہ بین الاقوامی و علاقائی نظاموں کی تکمیل کرنے والا ہونا چاہیے، جبکہ قومی خودمختاری اور ترقیاتی ترجیحات کا مکمل احترام بھی یقینی بنایا جائے۔
مستقل مندوب نے مشترکہ آبی وسائل کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے انہیں علاقائی امن اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش پر پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور خود معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیا، اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو معاہدے کی مکمل پاسداری کی طرف واپس لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سلامتی کونسل کو ان حالات میں، جہاں قدرتی وسائل کا غیر قانونی استحصال مسلح تنازعات کو ہوا دیتا ہو اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن رہا ہو، اپنے موجودہ ذرائع بشمول پابندیوں کے نظام اور نگرانی کے طریقہ کار کو ان کے مینڈیٹ کے مطابق مؤثر انداز میں بروئے کار لانا چاہیے۔
انہوں نے کثیرالجہتی تعاون کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد ان ممالک اور مقامی آبادیوں تک منصفانہ طور پر پہنچیں جو ان وسائل کے حقیقی مالک ہیں، تاکہ پائیدار ترقی، دیرپا امن اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔











