اسلام آباد، 21 اگست )اے پی پی ):وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایکسیلنس ان ٹیچر ایجوکیشن کا دورہ کیا اور کہا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جبکہ نوجوان نسل کو معیاری تعلیم اور پیداواری صلاحیتوں سے آراستہ کرنا قومی ضرورت ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ اساتذہ کا معیار بہتر کیے بغیر تعلیم کا معیار بہتر نہیں بنایا جا سکتا، استاد محض نوکری نہیں بلکہ مشن اور معاشرہ سازی کا ذریعہ ہے۔ مؤثر نصاب کے لیے ضروری ہے کہ اساتذہ جدید دور کے تقاضوں اور تدریسی طریقوں سے ہم آہنگ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ کو محض کتابی علم تک محدود رکھنے کے بجائے ان میں تخلیقی اور تنقیدی سوچ پیدا کرنا ہوگی، ہمیں کتاب خواں نہیں بلکہ صاحبِ کتاب نسل تیار کرنی ہے۔ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ نوجوانوں کو قومی شناخت، تہذیب اور ثقافت سے بھی روشناس کرانا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ تحقیق کا سفر کلاس روم سے شواہد، شواہد سے پالیسی اور پالیسی سے بہتر تدریسی عمل تک ہونا چاہیے۔ تحقیق کی اصل اہمیت تعلیم کے حقیقی مسائل کی نشاندہی اور ان کے مؤثر حل میں ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایکسیلنس ان ٹیچر ایجوکیشن وزارتِ منصوبہ بندی کا لگایا ہوا پودا ہے جو آج تناور درخت بن رہا ہے۔ ادارے کو ایسا مرکز بنایا جا سکتا ہے جہاں کلاس روم سے سامنے آنے والے سوالات کا منظم اور سائنسی انداز میں جائزہ لیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار کا ادارۂ تعلیمِ اساتذہ صرف عمارت یا کیمپس تک محدود نہیں رہ سکتا بلکہ اس کی اصل تجربہ گاہ اسکول اور کلاس روم ہونا چاہیے۔ تدریسی مشق، رہنمائی اور اسکولوں و ادارۂ تعلیمِ اساتذہ کے درمیان شراکت داری پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ’’اڑان پاکستان‘‘ کا مقصد صرف تعلیم کے دائرۂ کار کو وسعت دینا نہیں بلکہ ایسا انسانی سرمایہ تیار کرنا ہے جو پاکستان کو پیداواری، مسابقتی اور علم پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنے میں کردار ادا کرے۔
احسن اقبال نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسا جدید ٹیچر ٹریننگ سینٹر تشکیل دیا جائے جو جنوبی ایشیا کا بہترین ادارہ ہو اور پاکستان سمیت دنیا کے لیے ایک رول ماڈل بن سکے۔











