دسویں پاک۔ایران مشترکہ تجارتی کمیٹی (جے ٹی سی) کا اجلاس

3

اسلام آباد، 04 اگست (اے پی پی ): وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ایران کے وزیر صنعت، کان کنی و تجارت ڈاکٹر محمد اتابک کی مشترکہ صدارت میں دسویں پاک۔ایران مشترکہ تجارتی کمیٹی (جے ٹی سی) کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، سرحدی تعاون اور علاقائی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تجارت کا حجم دس ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تاریخی برادرانہ تعلقات کو مضبوط معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے پاک۔ایران فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو جلد حتمی شکل دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سرحدی لاجسٹکس،کسٹمز نظام اور کارگو نقل و حرکت میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔

جام کمال خان نے کہا کہ مشترکہ سرحدی منڈیوں کے قیام، الیکٹرانک ڈیٹا انٹرچینج کے نظام اور جدید تجارتی سہولیات کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کا نجی شعبہ تجارت کے فروغ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے سازگار، شفاف اور قابلِ اعتماد ماحول فراہم کریں۔

وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ دسویں پاک۔ایران مشترکہ تجارتی کمیٹی کا اجلاس قابلِ عمل روڈ میپ مرتب کرکے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اس موقع پر ایرانی وزیر صنعت، کان کنی و تجارت ڈاکٹر محمد اتابک نے پاکستان کو ایران کا طویل المدتی اسٹریٹجک تجارتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے ذریعے علاقائی تجارت اور لاجسٹک تعاون کو مزید فروغ دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے پاک۔ایران فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی جلد تکمیل کی امید ظاہر کرتے ہوئے بجلی کی تجارت، علاقائی رابطوں اور اقتصادی تعاون کو دونوں ممالک کے لیے نئی معاشی مواقع کا ذریعہ قرار دیا۔

اجلاس کے اختتام پر پاکستان اور ایران نے تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی رابطہ کاری، سرحدی تعاون اور نجی شعبے کے درمیان روابط کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس مقصد کے لیے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔