اسلام آباد، 6 اگست(اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت آج سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں قومی معیشت کے اہم شعبوں کی ترقی اور حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کو تیز رفتار بنانے کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں مجموعی طور پر سات ترقیاتی منصوبوں پر غور کیا گیا۔ ااجلاس میں 12 اعشاریہ 437 ارب روپے کی لاگت کے چار منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ ، 240 عشاریہ 537 ارب روپے کے تین منصوبوں کو حتمی منظوری کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی آف دی نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) کو بھجوا دیا گیا۔
اجلاس میں ایڈیشنل سیکریٹری پلاننگ، چیف اکانومسٹ، وائس چانسلر پائیڈ، پلاننگ کمیشن کے اراکین، وفاقی سیکریٹریز، صوبائی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈز کے سربراہان اور متعلقہ وفاقی وزارتوں و صوبائی حکومتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے ایجنڈے میں اعلیٰ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ کے شعبوں سے متعلق منصوبے شامل تھے۔ یہ منصوبے حکومت کے وژن اُڑان پاکستان کے تحت انسانی وسائل کی ترقی، جدید طرز حکمرانی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور پائیدار و جامع معاشی ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔اجلاس میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے سے متعلق چار منصوبے پیش کیے گئے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے پیش کیا گیا پہلا نظر ثانی شدہ منصوبہ ” آزاد جموں و کشمیر ویمن یونیورسٹی باغ کی استعداد کار میں اضافہ” کل لاگت 2550۔ اعشاریہ 538 ملین روپے کا منظور کیا گیا۔
منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے ممبر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، ممبر انفراسٹرکچر اور چیف پی پی اینڈ ایچ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تاکہ منصوبے کی لاگت کو ریشنالائز کیا جائے۔ انہوں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو جامع ماسٹر پلان تیار کرنے اور تعمیراتی کام صرف پہلے سے اہل اور اعلیٰ معیار کی کمپنیوں کے ذریعے کرانے کی ہدایت کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عوام کے ٹیکس کا ہر روپیہ انتہائی شفافیت، احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ خرچ ہونا چاہیے اور اس مقصد کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اعلیٰ معیار کے کلاس اے کنٹریکٹرز کی فہرست مرتب کرے تاکہ جامعات صرف انہی کمپنیوں کے ذریعے تعمیراتی کام کرائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ نظرثانی شدہ منصوبے پیش کرتے وقت پہلے سے منظور شدہ فنڈز سے مکمل ہونے والے کام کی تصویری پیش رفت لازمی طور پر پی سی۔ون کے ساتھ منسلک کی جائے تاکہ مزید جائزہ لیا جا سکے کہ اب تک کتناکام مکمل ہو چکا ہے۔ وفاقی وزیر نے یہ بھی ہدایت کی کہ منصوبوں کے ڈائریکٹرز کا تقرر صرف متعلقہ اہلیت، تجربے اور پیشہ ورانہ مہارت کی بنیاد پر کیا جائے۔
اعلیٰ تعلیمی کمیشن کا دوسرا منصوبہ ” یونیورسٹی آف ملتان میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے ” کل لاگت 1044 اعشاریہ 286 ملین روپے کا منظور کیا گیا
اعلیٰ تعلیمی کمیشن کا تیسرا نظرثانی شدہ منصوبہ ” حیدرآباد انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز کا قیام” کل لاگت 4559 اعشاریہ 289 ملین روہے کا منظور کیا گیا وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ منظور شدہ لاگت کے اندر اندرونی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے بسوں کی تعداد 2 سے بڑھا کر 6 کی جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ نظرثانی شدہ پی سی۔ون سے ایڈونمنٹ فنڈ ختم کیا جائے جبکہ آپریشنل اخراجات اصل پی سی۔ون کے مطابق برقرار رکھے جائیں۔
اعلیٰ تعلیمی کمیشن کا چوتھا نظرثانی شدہ منصوبہ ” خان بہادر ویٹنری اینڈ انیمل سائنسز منصوبے کی استعداد کار میں اضافہ کے لیے کل لاگت 4283 ملین روپے کی لاگت منظور کی گئی۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے متعلق سپارکو کا نظرثانی شدہ منصوبہ ” پاکستان اسپیس سینٹر (پی ایس سی) کا قیام” کے لیے 37130 اعشاریہ 518 ملین روے کی لاگت کا منصوبہ حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھیج دیا دیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس منصوبے کا مقصد پاکستان میں سیٹلائٹس کی ڈیزائننگ، اسمبلی، انٹیگریشن، ٹیسٹنگ اور کوالیفکیشن کی مقامی صلاحیت پیدا کرنا ہے تاکہ بیرونی سہولیات پر انحصار کم ہو۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ منصوبہ قومی خلائی پروگرام 2047 کا ایک اہم جزو ہے اور اس سے پاکستان کو خلائی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری حاصل ہوگی، جبکہ سائنسی اور سماجی و معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم لاگت میں سیٹلائٹس کی تیاری ممکن ہو سکے گی۔
پنجاب حکومت کی جانب سے فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ کے شعبے کا نظرثانی شدہ منصوبہ اہور واٹر اینڈ ویسٹ واٹر مینجمنٹ منصوبہ: بی آر بی ڈی کینال لاہور پر سطحی پانی کی صفائی کے پلانٹ کی تعمیر (لاہور واٹر سپلائی منصوبہ” کل لاگت 31591 اعشاریہ 539 ملین روپے کا حتمہ منظوری کے لیے ایکنک کو بھیج دیا گیا۔
منصوبے میں خام پانی کی پائپ لائنوں، 54 ایم جی ڈی سطحی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ، پمپنگ اسٹیشن، ذخیرہ آب، فلٹریشن سسٹم، ٹرانسمیشن لائن، پانی کی تقسیم کے نیٹ ورک کا نظام اور 5۔4 کلو میٹر میگاواٹ شمسی توانائی کے نظام اور دیگر متعلقہ سہولیات کی تعمیر شامل ہے۔ منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے فورم نے حکومتِ پنجاب کے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کو ہدایت کی کہ وہ صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے ذریعے منصوبے کے لیے سالانہ فنڈز کی فراہمی کی تحریری یقین دہانی کرائے۔
وزارتِ آبی وسائل کا نظرثانی شدہ منصوبہ ” گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم (کے-فور) 260 ایم جی ڈی (پہلا مرحلہ)” کل لاگت 171814 اعشاریہ 464 ملین روپے حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دی گئی
منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ایک انتہائی اہم عوامی فلاحی منصوبہ ہے جو کراچی کے شہریوں کی زندگیوں پر مثبت اور دیرپا اثرات مرتب کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اس منصوبے پر خطیر سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ شہریوں کو صاف اور محفوظ پینے کا پانی میسر آئے، صحت و صفائی کی صورتحال بہتر ہو، کم آمدنی والے طبقات کو مہنگے واٹر ٹینکرز پر انحصار سے نجات ملے اور پانی کے غیر قانونی کاروبار کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے حکومتِ سندھ کو ہدایت کی کہ منصوبے کے تمام اہم اجزاء، بالخصوص 50 میگاواٹ بجلی کی فراہمی اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن کی تکمیل کے اوقات کار میں ہم آہنگی سے متعلق جامع رپورٹ جلد از جلد پیش کی جائے تاکہ منصوبے کو مقررہ مدت میں فعال بنایا جا سکے۔











