کوئٹہ؛پبلک اکاؤنٹس کمیٹی  کا اجلاس

4

کوئٹہ، 03 اگست(اے پی پی): پبلک اکاؤنٹس کمیٹی  کا اجلاس آج صوبائی اسمبلی بلوچستان کے کمیٹی روم میں چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

 اجلاس ضلع کونسل واشک کے مالی سال 2025-26 کے ترقیاتی بجٹ سے متعلق رکن صوبائی اسمبلی  پی بی اکتیس  اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے رکن زابد علی ریکی کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کی روشنی میں منعقد کیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ رپورٹ کے مطابق ضلع کونسل واشک کے 71.500 ملین روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری اور پراسیسنگ ضلع کونسل کے چیئرمین اور تیرہ منتخب اراکین کو اعتماد میں لیے بغیر کی گئی، جبکہ ضلع کونسل سے منظور شدہ بجٹ اور بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی  پورٹل پر اپ لوڈ کیے گئے بجٹ میں بھی تضادات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اجلاس کے دوران ضلع کونسل واشک کے مالی سال 2025-26 کے ترقیاتی بجٹ سے متعلق تمام مطلوبہ اصل اور مصدقہ ریکارڈ کمیٹی کے روبرو پیش کیا گیا۔

 کمیٹی نے منظور شدہ ترقیاتی بجٹ، بجٹ تخمینے، اجلاسوں کے ایجنڈے، کارروائی، قراردادیں، اسکیم وار فنڈز کی تفصیلات، انتظامی و تکنیکی منظوریوں، پی سی ون، ٹینڈر دستاویزات، بی پی پی آر اے پورٹل پر اپ لوڈ کیے گئے ریکارڈ، ورک آرڈرز، متعلقہ فائلوں، مراسلت اور دیگر متعلقہ دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اصغر علی ترین نے کہا کہ کمیٹی عوامی وسائل کے شفاف، مؤثر اور قانون کے مطابق استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ کارروائی اور یہ اجلاس آئندہ کے لیے ایک مثالی نظیر بنے تاکہ احتساب، شفافیت اور اچھی حکمرانی کو مزید فروغ حاصل ہو۔اجلاس میں معاملے کی مزید جانچ پڑتال کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی، جسے ہدایت کی گئی کہ وہ تمام دستیاب ریکارڈ اور شواہد کا تفصیلی جائزہ لے کر دس (10) روز کے اندر اپنی رپورٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو پیش کرے۔