چیئرمین سینیٹ کی سیو دی چلڈرن کے وفد سے ملاقات، بچوں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ

0

اسلام آباد، 7 اگست ( اے پی پی ): چیئرمین سینیٹ پاکستان، سید یوسف رضا گیلانی سے آج پارلیمنٹ ہاؤس میں سیو دی چلڈرن کے اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی۔

 وفد میں مسٹر فرانسس ووڈز، گلوبل پروگرام ڈائریکٹر، سیو دی چلڈرن آسٹریلیا، مسٹر ارشد ملک، ریجنل ڈائریکٹر، اور مسٹر خرم گوندل، کنٹری ڈائریکٹر، سیو دی چلڈرن پاکستان شامل تھے۔

چیئرمین سینیٹ نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان میں 1979 سے سیو دی چلڈرن کی طویل المدتی شراکت داری اور بچوں کی زندگیوں میں بہتری کے لیے ادارے کی گراں قدر خدمات کو سراہا۔ انہوں نے بچوں کے حقوق کے تحفظ، بچوں پر مرکوز قانون سازی، مؤثر پارلیمانی نگرانی، اور تعلیم، صحت، غذائیت اور تحفظِ اطفال کے شعبوں میں عوامی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پارلیمنٹ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

وفد نے چیئرمین سینیٹ کو پاکستان میں جاری انسانی ہمدردی اور ترقیاتی پروگراموں اور ان کے مثبت اثرات سے آگاہ کیا۔ بچوں کی صحت اور غذائیت پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے 80 ملین امریکی ڈالر مالیت کے سندھ اسکول میلز پروگرام کا خیرمقدم کیا، جو ورلڈ فوڈ پروگرام کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے سندھ کے تقریباً 1,300 اسکولوں میں زیرِ تعلیم دو لاکھ سے زائد بچوں کی غذائی ضروریات اور تعلیمی نتائج بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ وفد نے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بالخصوص بچوں اور کمزور طبقات کو محفوظ بنانے کے لیے موسمیاتی مزاحم مالی وسائل کی فراہمی سے متعلق جاری اقدامات پر بھی بریفنگ دی۔

وفد نے چیئرمین سینیٹ کو ورلڈ موسکیٹو پروگرام کے ساتھ اپنے اشتراک سے بھی آگاہ کیا، جو ڈینگی اور مچھروں سے پھیلنے والی دیگر بیماریوں کی روک تھام کے لیے ایک جدید عالمی صحت عامہ کا اقدام ہے۔ وفد نے بتایا کہ اس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی محکمہ جاتِ صحت، خصوصاً حکومت سندھ، کے ساتھ تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال جاری ہے تاکہ پاکستان میں ڈینگی اور دیگر مچھر سے منتقل ہونے والی بیماریوں کے خلاف اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

وفد نے چیئرمین سینیٹ کو 18 نومبر 2026 کو بینکاک، تھائی لینڈ میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی علاقائی مکالمے “From Visioning to Commitment: Advancing Child-Responsive Budgeting in Asia” میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ اس مکالمے کا مقصد ایشیا بھر میں بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے سرکاری، نجی اور ترقیاتی مالی وسائل کو متحرک کرنا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے دعوت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے بچوں پر مبنی پالیسی سازی اور مالیاتی حکمت عملیوں کے فروغ کے لیے علاقائی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

ملاقات کے دوران وفد نے پاکستان کے ثقافتی ورثے کے فروغ، مقامی ہنرمندوں اور روایتی دستکاری کی سرپرستی سے متعلق اپنی سرگرمیوں اور حالیہ دورۂ ملتان کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے ملتان کی تاریخی اہمیت، صدیوں پر محیط ملتانی نیلی مٹی کے برتنوں (ملتانی بلیو پاٹری) کی روایت اور ملتانی مٹی کی عالمی سطح پر خوبصورتی اور جلد کی نگہداشت کی مصنوعات میں استعمال ہونے والی افادیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے شاندار ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتی ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور اگر انہیں معیاری تعلیم، فنی تربیت اور روزگار کے بہتر مواقع، بالخصوص روایتی ہنر اور دستکاری کے شعبوں میں، فراہم کیے جائیں تو یہی نوجوان ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کا اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔ وفد نے پاکستان کے عظیم تہذیبی ورثے کو سراہتے ہوئے روایتی فنون اور دستکاری کے فروغ و تحفظ میں مزید تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔

وفد نے پرتپاک استقبال پر چیئرمین سینیٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بچوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کے فروغ کے لیے پارلیمنٹ کے مسلسل کردار کو سراہا۔ چیئرمین سینیٹ نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان بچوں کی فلاح، تحفظ اور ہمہ جہت ترقی کے لیے قومی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔