چیئرمین سینیٹ کا میگریشن کے مؤثر نظم و نسق میں پارلیمان کے کردار کو مزید مضبوط بنانے پر زور، تارکینِ وطن کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر تاکید

2

اسلام آباد، 15 ستمبر ( اے پی پی )ء: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے محفوظ، منظم اور باقاعدہ میگریشن کے فروغ اور پاکستانی تارکینِ وطن کے حقوق، وقار اور جائز مفادات کے تحفظ کے لیے پارلیمانی رابطہ کاری، شواہد پر مبنی قانون سازی اور ادارہ جاتی مکالمے کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔

سینیٹ بینکوئٹ ہال میں پاکستان میں میگریشن کے نظم و نسق سے متعلق پہلے پارلیمانی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے پاکستان میں عالمی ادارہ برائے میگریشنکی چیف آف مشن محترمہ میو ساتو اور ان کے وفد کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے میگریشن کے نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے پارلیمانِ پاکستان اور کے مسلسل تعاون کو سراہا۔ چیئرمین نے اس اہم پارلیمانی اقدام کے انعقاد پر سینیٹ سیکریٹریٹ کے آفس آف اسپیشل انیشی ایٹوز اور پارلیمانی ڈویلپمنٹ یونٹ کی کاوشوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ میگریشن ایک کثیرالجہتی معاملہ ہے جس کا روزگار، معاشی مواقع، انسانی ترقی، سلامتی اور علاقائی تعاون سے گہرا تعلق ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہجرت کو محض سلامتی کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اس کے لیے انسانی ہمدردی، توازن، شواہد اور ترقی پر مبنی جامع نقطۂ نظر اپنانا ضروری ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے تارکینِ وطن خصوصاً پاکستانی محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ، محفوظ اور قانونی ذرائع سے ہجرت کے فروغ، اخلاقی بھرتی کے طریقۂ کار کو یقینی بنانے اور ترسیلاتِ زر کی سہولت کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیا۔

انہوں نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو نسل پرستی، اسلاموفوبیا اور اجنبیوں کے خلاف تعصب (زینوفوبیا) سے تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔چیئرمین سینیٹ نے موسمیاتی تبدیلی اور میگریشن کے بڑھتے ہوئے تعلق کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث نقل مکانی پاکستان کے لیے ایک سنگین اور بڑھتا ہوا چیلنج بن رہی ہے۔ انہوں نے موسمیاتی اثرات سے نمٹنے، کمزور طبقات کے تحفظ اور جبری نقل مکانی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے قابلِ پیش گوئی، قابلِ رسائی اور مناسب بین الاقوامی موسمیاتی مالی معاونت، بالخصوص گرانٹس، کی فراہمی پر زور دیا۔

پاکستان کی دیرینہ انسانی ہمدردی کی روایت کا ذکر کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان نے کئی دہائیوں کے دوران لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور انہیں بنیادی سہولیات اور روزگار کے مواقع فراہم کیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی بے مثال قربانیاں دی ہیں اور علاقائی و عالمی امن کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے میگریشن کے نظم و نسق کے حوالے سے پارلیمان میں وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہے اور پاکستان بھر کے خاندانوں اور معاشروں کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔

 پاکستان کی چیف آف مشن محترمہ میو ساتو نے پاکستان کو میگریشن کے حوالے سے ماخذ، راہداری اور میزبان ملک کے طور پر اس کے اہم کردار کو اجاگر کیا اور ہجرت کے بہتر نظم و نسق کے لیے بین الاقوامی تعاون اور قومی سطح پر عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

چیئرمین سینیٹ کی مشیر برائے خصوصی اقدامات و پارلیمانی ڈویلپمنٹ یونٹ محترمہ ردا قاضی نے کہا کہ یہ مکالمہ ہجرت کے نظم و نسق کے حوالے سے مؤثر قانون سازی اور پارلیمانی نگرانی کے لیے پارلیمان کی استعداد کار بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، بالخصوص سیلاب اور بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کو اجاگر کیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں پاکستانی متاثر اور بے گھر ہوئے ہیں۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے باوقار اور پائیدار حل کے لیے مؤثر پالیسی سازی، قابلِ اعتماد اعداد و شمار اور مؤثر ادارہ جاتی رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تارکینِ وطن اور میزبان آبادیوں کے مسائل کو بہتر انداز میں حل کیا جا سکے۔

پروفیسر یعقوب خان بنگش، آئی بی اے کراچی نے پاکستان کے ہجرتی منظرنامے کا جائزہ پیش کرتے ہوئے پاکستان کے ماخذ، میزبان اور راہداری ملک کی حیثیت سے کردار کو اجاگر کیا اور پارلیمانی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ترجیحات پر روشنی ڈالی۔

مکالمے کے دوران سید علی قاسم گیلانی، رکن قومی اسمبلی؛ سینیٹر آغا شاہ زیب درانی؛ رومینہ خورشید عالم، رکن قومی اسمبلی؛ پروفیسر یعقوب خان بنگش اور محترمہ میو ساتو پر مشتمل پینل ڈسکشن بھی ہوئی، جس میں پاکستان میں میگریشن کے نظم و نسق میں پیش رفت، موجود خلا اور آئندہ کی ترجیحات کا جائزہ لیا گیا اور پارلیمان کے کردار کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

قبل ازیں، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سےپاکستان کی چیف آف مشن محترمہ میو ساتو نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران چیئرمین سینیٹ نے پارلیمانِ پاکستان اور  کے درمیان جاری تعاون کو سراہا اور استعدادِ کار میں اضافے کے اقدامات، بالخصوص پارلیمانی مکالمہ برائے میگریشن گورننس اور  کے تحت تربیتی پروگرامز کو اہم قرار دیا۔

چیئرمین سینیٹ نے عوامی سطح پر روابط اور پارلیمانی سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی فرینڈشپ گروپس دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور اقوام کے درمیان باہمی افہام و تفہیم بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ملاقات میں رکن قومی اسمبلی رومینہ خورشید عالم، سیکریٹری سینیٹ سید حسنین حیدر، چیئرمین سینیٹ کی مشیر برائے خصوصی اقدامات و پارلیمانی ڈویلپمنٹ یونٹ محترمہ ردا قاضی اور پرنسپل سیکریٹری ٹو چیئرمین سینیٹ محترمہ رابعہ انور بھی موجود تھیں۔