دہشت گردی کو اس کی تمام اقسام اور مظاہر بشمول ریاستی دہشت گردی ،قابل مذمت قرار دیا جانا چاہیئے ،وزیراعظم شہباز شریف

0

بشکیک،10ستمبر  (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نےایس سی او کی حقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے پاکستان کے پختہ عزم اور عہد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی  ایس سی او ممالک کے لئے مشترکہ خطرہ ہے،دہشت گردی کو اس کی تمام اقسام اور مظاہر بشمول ریاستی دہشت گردی، واضح اور غیر مبہم الفاظ میں قابل مذمت قرار دیا جانا چاہیئے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں شنگھائی تعاون تنظیم کے ایس سی او پلس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وزیراعظم نے کہا کہ ان  لیے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ  انہیں شنگھائی تعاون تنظیم کے ایس سی او پلس کے دوستوں اور شراکت داروں کے اجتماع سے خطاب کا موقع ملا ہے،شنگھائی تعاون تنظیم میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا مشاہدہ یقیناً حوصلہ افزا ہے جو اس اہم علاقائی فورم کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور اہمیت کا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت بے مثال ہنگامہ خیزی اور تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے،80 برس قبل اقوام متحدہ کا قیام اس عالمگیر خواب کو حقیقت بنانے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا کہ تمام جنگوں اور تنازعات کا خاتمہ ہو اور پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔  ان آٹھ دہائیوں کے دوران پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے لیے مکمل طور پر پُرعزم اور کاربند رہا ہے،ہم اس کو ایک ایسے موقع کے طور پر دیکھتے ہیں جس کے ذریعے زیادہ مساوی، جمہوری اور منصفانہ بین الاقوامی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے تاہم آج اقوام متحدہ کو فوری طور پر اصلاحات کی ضرورت ہے، اسے زیادہ جوابدہ اور حالات کے تقاضوں کے مطابق مؤثر بننا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان گزشتہ دو برسوں کے دوران عالمی سطح پر قیام امن کی کوششوں میں فعال کردار ادا کرتا رہا ہے،ہماری امن کوششیں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے ساتھ اپنے اہم مرحلے کو پہنچیں یہ خلیجی خطے میں جاری تنازعہ کے خاتمے کے لیے سب سے زیادہ قابل عمل اور پائیدار راستہ ہے اور تمام فریقوں کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے امن کے حصول کی ایک وسیع طور پر قابل قبول بنیاد ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی دستخط کنندہ ہے جس نے اتحاد اور مشترکہ عزم کا واضح پیغام دے کر خطے میں امن کے امکانات کو مزید مضبوط کیا ہے اور ساتھ ہی خطے میں ترقی اور خوشحالی کے فروغ کی راہ ہموار کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال بدستور انتہائی تشویشناک ہے،عالمی برادری کو بے گناہ فلسطینی عوام کی تکالیف کے خاتمے اور ان کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے،یہی حقوق دیگر تمام مظلوم اقوام کو بھی دیئے جانے چاہئیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پانی ہمارے خطے کی شہ رگ ہے جو لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کا سہارا ہے ہماری زمینوں کو سیراب کرتا ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے پانی کو کبھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیئے اور نہ ہی اسے سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیئے،ہمارے مشترکہ آبی وسائل سے متعلق معاہدے لازمی پابندیوں اور وعدوں کی حیثیت رکھتے ہیں جن کا ہر صورت مکمل احترام کیا جانا چاہئے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی ہمارے رکن ممالک اور درحقیقت یہاں  ‘‘ایس سی او پلس’’ میں نمائندگی رکھنے والے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مشترکہ خطرہ ہے،ہم علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے کے تحت اپنے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں جن میں تین برائیوں ‘‘ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور مذہبی انتہا پسندی’’ سے نمٹنا شامل ہے،پاکستان دہشت گردی کی لعنت کا بہادری اور ثابت قدمی سے مقابلہ اور اسے شکست دینے کا سلسلہ جاری رکھے گا،90  ہزار سے زائد قیمتی جانوں کی قربانی اور 150 ارب  ڈالر کے معاشی نقصانات کے باوجود ہماری قوم نے دہشت گردی کے خلاف نہ صرف اپنے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے بھی پُرعزم اور ثابت قدم ہو کر جدوجہد کی ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کو اس کی تمام اقسام اور مظاہر میں، بشمول ریاستی دہشت گردی واضح اور غیر مبہم الفاظ میں قابلِ مذمت قرار دیا جانا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی روابط اور باہمی رابطہ کاری ہمارے لیے ایک مشترکہ ترجیح ہے تاہم یہ صرف اسی صورت حقیقت کا روپ دھار سکتی ہے جب افغانستان میں امن اور استحکام قائم ہو ،وہ دہشت گرد گروہ جو افغان سرزمین کو پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک پر حملوں اور بے گناہ لوگوں کے قتل کے لیے استعمال کرتے ہیں انہیں مؤثر انداز میں روکنا ضروری ہے۔

 وزیراعظم نے کہا کہ جیسے ہی پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی سربراہی سنبھال رہا ہے، ہم اس پختہ یقین کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے کہ ایس سی او کو اپنے عوام کے لیے ٹھوس اور عملی فوائد فراہم کرنے چاہئیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ ایک سال کے دوران ہم انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت، توانائی، ترقی اور غربت کے خاتمے، آفات سے نمٹنے، صحت، ثقافت اور کھیلوں کے شعبوں کو ترجیح دیں گے۔ وزیراعظم نے ایس سی او کی حقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے پاکستان کے پختہ عزم اور عہد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے ایس سی او کو مزید عظیم بلندیوں تک لے جانے کی اپنی کوششوں میں ہم اس مقصد کے لیے ایس سی او کے رکن ممالک اور اپنے قابل قدر ایس سی او پلس خاندان کے بھرپور اور مخلصانہ تعاون کے خواہاں ہیں۔ وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رہنماؤں کو 2027ء میں اسلام آباد میں ایس سی او پلس اجلاس کے آئندہ ایڈیشن میں شرکت کی دعوت بھی دی۔