سینیٹ کمیٹی نے ترامیم کے ساتھ پاکستان جنرل کاسمیٹکس بل کی منظوری دی، نسٹ واٹر سپلائی اور فوڈ سیفٹی کے مسائل کا جائزہ لیا

0

اسلام آباد،09ستمبر  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے پاکستان جنرل کاسمیٹکس بل 2026 کو دو ترامیم کے ساتھ منظور کرلیا اور غیر معیاری و غیر محفوظ کاسمیٹکس مصنوعات کی روک تھام کے لیے مؤثر نظام وضع کرنے پر زور دیا ہے۔ سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے کہا کہ کاسمیٹکس مصنوعات کی اسمگلنگ ایک الگ مگر متعلقہ چیلنج ہے، قانون پر مؤثر عملدرآمد ضروری ہے۔کمیٹی نے نسٹ میں پانی کی فراہمی اور گندے پانی کی صفائی کے مسائل کا بھی جائزہ لیا۔ حکام نے بتایا کہ نسٹ نے شاہ اللہ دتہ سے پانی کی فراہمی کے لیے 22 ملین روپے جبکہ ایچ-11 ذخیرے سے پانی کے منصوبے کے لیے 18 ملین روپے ادا کیے، تاہم منصوبے مختلف مسائل کے باعث مکمل نہ ہوسکے۔ کمیٹی نے شاہ اللہ دتہ آبی ذریعہ بروئے کار لانے اور مطلوبہ کام چھ ماہ میں مکمل کرنے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نسٹ میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے لیے 159 ملین روپے کا پی سی ون تیار کیا گیا ہے جبکہ سی ڈی اے نے پیشگی منظوری کے بغیر تعمیرات پر 574 ملین روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔ کمیٹی نے سینیٹر افنان اللہ خان کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی دوبارہ فعال کرنے کی سفارش کی۔کمیٹی نے اسلام آباد میں تعلیمی اداروں کے قریب انرجی ڈرنکس کی فروخت سے متعلق مجوزہ ترامیم پر مزید غور کے لیے وزارت داخلہ اور فوڈ سیفٹی حکام کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔اجلاس میں سندھ میں سمندری کٹاؤ سے ہزاروں ایکڑ اراضی کے نقصان پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں تحقیقی بریفنگ طلب کی گئی۔ چیئرمین نے پاک کوریا سولر ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام کی کوششوں کو سراہا جبکہ سیکرٹری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے سولر بیٹریوں کی جانچ کے لیے نئی لیبارٹری کے قیام پر کوریا کے ساتھ مذاکرات جاری رہنے سے آگاہ کیا۔