اقوامِ متحدہ، 22 اکتوبر )اے پی پی): پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں انفرادی مستقل نشستوں میں اضافے کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے ایسی جامع، جمہوری اور منصفانہ اصلاحات پر زور دیا ہے جو نمائندگی اور جوابدہی کو مضبوط بنانے کے ساتھ اقوامِ متحدہ کی وسیع تر رکنیت کے اجتماعی مفادات کا تحفظ کریں۔
سلامتی کونسل میں اصلاحات سے متعلق جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایجنڈا آئٹم 123 کے تحت خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے کہا کہ اصلاحات کا مقصد موجودہ عدم توازن کو دور کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ تاریخی مراعات کو مستحکم کرنا یا طاقت کے نئے مراکز قائم کرنا۔
سفیر عثمان جدون نے کہا کہ سوال یہ نہیں کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات ہونی چاہییں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اسے مزید نمائندہ، جمہوری، شفاف اور جوابدہ کیسے بنایا جائے۔ انہوں نے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے تنازعات اور کثیرالجہتی نظام کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز کے تناظر میں اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات اقوامِ متحدہ کے تمام رکن ممالک کے اہم مفادات سے وابستہ ہیں، اس لیے ان پر وسیع ترین ممکنہ حمایت، ترجیحاً اتفاقِ رائے، کی بنیاد پر فیصلہ کیا جانا چاہیے۔
سفیر عثمان جدون نے خبردار کیا کہ چند ممالک کی جانب سے رکنیت کے وسیع تر مفادات اور نقطۂ نظر کو خاطر میں لائے بغیر اضافی مستقل نشستیں حاصل کرنے پر اصرار اصلاحات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کے لیے اصلاحات کے بجائے، وہ چند کے لیے مراعات چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ طرزِ عمل ریاستوں کی خودمختار مساوات کے بنیادی اصول کے منافی ہے۔
قائم مقام مستقل مندوب نے مزید کہا کہ مستقل رکنیت اور ویٹو کے اختیار نے سلامتی کونسل کے تعطل اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات سے مؤثر طور پر نمٹنے میں اس کی ناکامی میں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مستقل نشستوں کی تعداد میں اضافہ، خواہ ویٹو کے اختیار کے ساتھ ہو یا اس کے بغیر، کونسل کو جمہوری بنانے کے بجائے عدم مساوات کو مزید مستحکم کرے گا۔
انہوں نے زیادہ جمہوری اور جامع راستے کے طور پر منتخب غیر مستقل نشستوں میں اضافے کی تجویز پیش کی، جس کی بنیاد باقاعدہ انتخابات اور خطوں کے درمیان منصفانہ گردشی نظام ہو۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے بین الحکومتی مذاکرات کے عمل میں تعمیری شرکت اور اختلافات کم کرنے اور اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے شریک صدور کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
سفیر عثمان جدون نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کا مقصد موجودہ عدم مساوات کو ختم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ اسے دہرانا؛ نمائندگی کو وسیع کرنا چاہیے، نہ کہ مراعات کو چند ہاتھوں میں مرتکز کرنا؛ اور کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانا چاہیے، نہ کہ قومی مفادات کی بالادستی کو مستحکم کرنا۔
انہوں نے پاکستان کے مؤقف کا خلاصہ ان الفاظ میں کیا کہ سب کے لیے اصلاحات، کسی کے لیے خصوصی مراعات نہیں۔











