عسکری شعبے میں مصنوعی ذہانت کے جامع نظم و نسق کے لیے اقوامِ متحدہ کی قیادت ضروری ہے: پاکستان

1

اقوامِ متحدہ، 22 اکتوبر(اے پی پی): پاکستان نے عسکری شعبے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے جامع اور اقوامِ متحدہ کے زیرِ قیادت نظم و نسق پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی امن و سلامتی پر اس کے اثرات سے مؤثر طور پر نمٹنا ناگزیر ہے۔ ان خطرات میں کشیدگی میں اضافہ، فیصلہ سازی کے لیے دستیاب وقت میں کمی اور مصنوعی ذہانت و جوہری ہتھیاروں کے باہمی تعامل کے سنگین مضمرات شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے تحقیقِ تخفیفِ اسلحہ(یو این آئی ڈی آئی آر) کے مرکزِ امتیاز برائے مصنوعی ذہانت، امن و سلامتی کے فورم کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے عسکری شعبے میں مصنوعی ذہانت کے نظم و نسق کے حوالے سے پاکستان کی طویل المدتی کاوشوں اور سوئٹزرلینڈ و یو این آئی ڈی آئی آرکے ساتھ مرکز کے بانی شراکت دار کی حیثیت سے پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا۔

سفیر عثمان جدون نے زور دیا کہ ’’عسکری شعبے میں مصنوعی ذہانت کا نظم و نسق جامع ہونا چاہیے اور اس کی بنیاد اقوامِ متحدہ پر ہونی چاہیے۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کا ذمہ دارانہ استعمال ضروری ہونے کے باوجود علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو لاحق وسیع تر خطرات سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

پاکستان کی جانب سے 2014ء سے مہلک خودمختار ہتھیاروں کے نظام (LAWS) کے حوالے سے ایک قانونی معاہدے کی تشکیل کے لیے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے انسانی فیصلے اور انسانی کنٹرول کے اصولوں کے لیے پاکستان کی حمایت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے عسکری مصنوعی ذہانت کے سلامتی اور استحکام پر اثرات سے متعلق پاکستان کے 2023ء کے ورکنگ پیپر اور جون 2025ء میں اسلام آباد میں منعقدہ REAIM علاقائی مشاورت سمیت مختلف کثیرالجہتی اقدامات میں پاکستان کی شرکت کا بھی حوالہ دیا۔

سفیر عثمان جدون نے مرکز کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مختلف بین الاقوامی مباحث کے درمیان تسلسل پیدا کرنے، ترقی پذیر ممالک کی استعدادِ کار بڑھانے اور تزویراتی نوعیت کے خطرات پر آزادانہ و شواہد پر مبنی تحقیق کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان خطرات میں روایتی اور جوہری ہتھیاروں کا باہمی امتزاج اور اسلحے کی دوڑ شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی جنوب کے ممالک کو ان مباحث میں بامعنی شرکت کے لیے درکار علم، مہارت اور عملی وسائل تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔

انہوں نے فورم کے کردار کو بھی اہم قرار دیا، جو حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں، صنعت، علمی و تحقیقی اداروں اور سول سوسائٹی کو مسلسل مکالمے کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرے گا اور اس مکالمے کے نتائج کو کثیرالجہتی عمل سے منسلک کرنے میں معاون ہوگا۔

سفیر عثمان جدون نے تمام ممالک، بالخصوص ترقی پذیر ممالک، نیز تحقیقی اداروں، صنعت اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ فورم میں شمولیت میں دلچپسی کا اظہار کریں اور مرکز کی سیاسی و مالی معاونت پر غور کریں۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت، امن اور سلامتی کے حوالے سے جامع اور مؤثر بین الاقوامی مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے مرکز کے ساتھ فعال شراکت داری جاری رکھنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔