اسلام آباد،07اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن کے قیام میں مدد کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ گہری اور پیچیدہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اس دور میں اسلام آباد مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے لئے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو فارن سروسز اکیڈمی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ دورہ پاکستان سے مسرت ہوئی ہے، اس عظیم ملک کے عوام کے لئے میرے دل میں ایک خاص مقام ہے، جب میں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلق پر غور کرتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ اردو زبان اس کیفیت کو بہترین انداز میں بیان کرتی ہے’’دل خوش ہو گیا‘‘ ،گزشتہ برسوں کے دوران پہلے بحیثیت ہائی کمشنر برائے مہاجرین اور پھر سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کی حیثیت سے میں نے پاکستان کا حقیقی چہرہ دیکھا ہے، سخاوت کا وہ پاکستان دیکھا ہے جس نے شدید مشکلات کے ادوار میں لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی، میں کبھی نہیں بھول سکتا کہ کس طرح پاکستانی خاندانوں اور برادریوں نے افغان مہاجرین کے لئے اپنے دروازے اور دل کھول دیئے اور جو کچھ ان کے پاس تھا، بعض اوقات تو وہ بھی جو ان کے پاس نہیں تھا، ان کے ساتھ بانٹ دیا۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ انہوں نے مزاحمت اور حوصلے کا وہ پاکستان بھی دیکھا ہے جس نے دہشت گردی کے چیلنجز کا سامنا کیا، پاکستان خود دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، دہشت گردی کے حملوں سے متاثر اور بے گھر ہونے والی ان برادریوں کی جرأت اور یکجہتی کو بھی کبھی فراموش نہیں کروں گا جن سے میں نے بعض انتہائی مشکل حالات میں ملاقات کی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ انہوں نے خصوصاً گزشتہ دو برس کے دوران سلامتی کونسل کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے امن کے قیام اور پل تعمیر کرنے والے پاکستان کو بھی دیکھا ہے ، بہت کم ممالک نے اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں پاکستان سے زیادہ مستقل مزاجی کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا ہے، نسل در نسل پاکستانی امن دستوں نے دنیا کے خطرناک ترین علاقوں میں خدمات انجام دی ہیں، شہریوں کا تحفظ کیا ہے، نازک امن عمل کی حمایت کی ہے اور بین الاقوامی تعاون کی بہترین روایات کی نمائندگی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج پاکستان ایک مرتبہ پھر امن کے لئے اپنے عزم کا مظاہرہ کر رہا ہے، گہری اور پیچیدہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اس دور میں اسلام آباد مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے لئے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھرا ہے، امریکہ اور ایران کے درمیان امن کے قیام میں مدد کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دیگر اہم مسائل خصوصاً موسمیاتی بحران کے معاملے کے حوالے سے بھی صفِ اول میں ہے ، 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے دوران میرا پاکستان کا دورہ ہمیشہ میرے دل میں نقش رہے گا، انہوں نے اسے ’’انتہائی شدید مون سون‘‘ قرار دیا تھا، سیلاب نے ایسے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جو میرے اپنے ملک پرتگال کے رقبے سے تین گنا زیادہ تھے، اس سانحے نے دنیا کے سامنے ایک گہری ناانصافی کو آشکار کیا، پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تقریباً ایک فیصد حصہ ڈالتا ہے لیکن موسمیاتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، لاکھوں لوگوں کو ایسے بحران سے تباہ کن نقصانات کا سامنا کرنا پڑا جس کے پیدا کرنے میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اس سانحے کے دوران جن غیر معمولی مردو خواتین سے میری ملاقات ہوئی، ان کی انسانیت کو میں ہمیشہ یاد رکھوں گا، جب سیلابی پانی کی سطح بلند ہو رہی تھی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ انہیں ایک ناممکن انتخاب کا سامنا تھا، وہ اپنے پاس موجود معمولی سے اثاثوں کو بچانے کی کوشش میں وہ قیمتی وقت صرف کر سکتے تھے لیکن انہوں نے اس کے بجائے سب کچھ پیچھے چھوڑ کر اپنے ہمسایوں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا،انہوں نے لوگوں کو سیلابی پانی سے نکالا، بچوں، بزرگوں اور معذور افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا۔ انتونیو گوتریس نے کہا کہ انہوں نے جنگ، قدرتی آفات اور انسانی مصائب سے متاثر دنیا کے بہت سے علاقوں کا دورہ کیا ہے لیکن بہت کم مواقع پر میں اس قدر متاثر ہوا ہوں کیونکہ ان سادہ دل پاکستانیوں نے ایک ایسی حقیقت کا مظاہرہ کیا جو عالمی معاملات میں آج تیزی سے نایاب ہوتی جا رہی ہے، بار بار یہی دیکھنے میں آتا ہے کہ جن لوگوں کے پاس سب سے کم وسائل ہوتے ہیں، وہی اکثر سب سے پہلے اس بنیادی حقیقت کو سمجھ لیتے ہیں کہ ہم سب کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج انسانیت کو ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جنہیں کوئی بھی ملک تنہا حل نہیں کر سکتا، ان میں موسمیاتی تبدیلی، تنازعات، عدم مساوات اور اب مصنوعی ذہانت جیسی انقلابی ٹیکنالوجیز بھی شامل ہیں، پاکستان میں جن لوگوں سے میری ملاقات ہوئی وہ ایک بات کو فطری طور پر سمجھتے تھے، جب خطرہ سب کے لئے ہو تو اس کا جواب یہ نہیں ہو سکتا کہ ہر شخص صرف اپنی فکر کرے، بحران کے لمحات میں خود کو بچانے کا آغاز دوسروں کی مدد سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعد یہ میرا نیویارک سے باہر پہلا دورہ ہے، گزشتہ چند روز کے دوران میں نے دنیا کے ہر خطے کے رہنماؤں سے ملاقات کی، ان میں صدور، وزرائے اعظم، وزرائے خارجہ، بڑی طاقتوں اور چھوٹی ریاستوں کے نمائندے شامل تھے، میں نے بہت سی مختلف آوازیں سنیں لیکن ان سب میں ایک مشترکہ تشویش نمایاں تھی، ہماری دنیا کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور یہ احساس کہ خطرات ہماری جانب سے تلاش کئے جانے والے حل سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، حالات مختلف تھے، خدشات مختلف تھے لیکن بنیادی مسائل حیرت انگیز حد تک ایک جیسے تھے اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی بھی تقریباً یکساں تھی ۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایک کثیر قطبی دنیا کی جانب بڑھ رہے ہیں لیکن محض کثیر قطبیت استحکام کی ضمانت نہیں دیتی، 20ویں صدی کے آغاز میں یورپ بھی ایک کثیر قطبی خطہ تھا لیکن وہاں مضبوط اور مؤثر کثیرالجہتی ادارے موجود نہیں تھے، نتیجہ پہلی جنگِ عظیم کی صورت میں سامنے آیا، ہمارے دور کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ دنیا تقسیم اور کم ہوتی ہوئی باہمی تعاون کی دنیا بنے گی، جیسا کہ ہم آج تیزی سے دیکھ رہے ہیں؟یا ہم ایک ایسی باہم مربوط دنیا کی تشکیل کے لئے کام کریں گے جس میں طاقت کے متعدد مراکز ہوں اور جسے اقتصادی، سیاسی، سماجی اور تکنیکی روابط کے ایک مضبوط اور وسیع جال کے ذریعے جوڑا گیا ہو؟، ایک باہم مربوط کثیر قطبی دنیا کے لئے ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کے مرکز میں ایک ایسا کثیرالجہتی نظام موجود ہو جو متوازن، نمائندہ اور آج کی دنیا کی عکاسی کرنے والا ہو، نہ کہ 80 سال پہلے کی دنیا کی لیکن عین اس وقت جب باہمی تعاون کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، تقسیم اور اختلافات تعاون کو مزید مشکل بنا رہے ہیں،میں کثیرالجہتی نظام کے لئے چار شعبوں امن و سلامتی، عدم مساوات، موسمیاتی بحران اور تکنیکی انقلاب میں بڑے چیلنجز دیکھ رہا ہوں،آئیے جنگ اور امن سے آغاز کرتے ہیں ، تنازعات کی تعداد بڑھ رہی ہے، انسانی مصائب میں اضافہ ہو رہا ہے اور بین الاقوامی قانون کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، جیسا کہ پاکستان اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے، چاہے معاملہ مسلح تنازعہ کا ہو، دہشت گردی کا، معاشی بحران کا یا بے دخلی کا، اس کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے، ہم یوکرین سے لے کر سوڈان اور یقیناً غزہ کے ہولناک حالات تک ان اثرات کو دیکھ رہے ہیں، غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف ہونے والی ہلاکتوں اور تباہی کے پیمانے اور شدت کا بھی کوئی جواز نہیں ہو سکتا اور اب مقبوضہ فلسطینی علاقے میں نسلی کشی کا خطرہ منڈلا رہا ہے ، غزہ کے لئے امن منصوبے پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہئے ۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے مستقبل کو تشکیل دینے والا دوسرا بڑا چیلنج عدم مساوات ہے، قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے، ترقیاتی مالی وسائل ضرورت سے کہیں کم ہیں اور پائیدار ترقی کے اہداف مقررہ سمت میں آگے نہیں بڑھ رہے، یہاں پاکستان میں اور دنیا بھر میں، ترقی کا انحصار صرف معاشی مواقع پر نہیں بلکہ انسانی حقوق کے احترام، قانون کی حکمرانی اور شہری آزادیوں کے تحفظ پر بھی ہے۔دوسری جانب بہت سے لوگ مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئے یہ محسوس کرتے ہیں کہ مواقع کہیں اور زیادہ مرکوز ہیں، پاکستان جیسے ملک کے لئے یہ چیلنج خصوصی اہمیت رکھتا ہے، سب سے بڑھ کر ایک نوجوان، کاروباری صلاحیتوں سے مالا مال اور تیزی سے باہم مربوط ہوتی ہوئی آبادی پر مشتمل پاکستان کا مستقبل اس کے عوام تشکیل دیں گے،دنیا بھر کے رہنماؤں کے سامنے سوال یہ ہے کہ آیا وہ ایسے حالات پیدا کریں گے جو اس صلاحیت کو پنپنے کا موقع دیں، یا پھر یہ قابلِ قبول سمجھا جائے گا کہ ممالک کے درمیان اور خود ممالک کے اندر عدم مساوات مزید بڑھتی چلی جائے ، اسی لئے میں بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے لیے مسلسل آواز اٹھاتا رہوں گا، ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی اور اپنے مستقبل میں سرمایہ کاری کے درمیان انتخاب پر مجبور نہیں کیا جانا چاہئے، انہیں پائیدار معاشی ترقی کے حصول کے لئے درکار مالی وسائل تک رسائی سے بھی محروم نہیں کیا جانا چاہئے، ان مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر رکھنے میں پاکستان کی قیادت کو سراہتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہمیں تیسرے بڑے چیلنج یعنی موسمیاتی بحران کا سامنا ہے، پاکستان اس حقیقت کو بخوبی سمجھتا ہے لیکن پاکستان ایک اور اہم حقیقت سے بھی آگاہ ہے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی کوششیں ہمارے دور کے سب سے بڑے معاشی مواقع میں سے ایک ہیں، قابلِ تجدید توانائی کا انقلاب شروع ہو چکا ہے اور معاشی رجحانات بھی واضح طور پر اس کے حق میں جا رہے ہیں، اس کی ایک نمایاں مثال پاکستان میں شمسی توانائی کا تیزی سے فروغ ہے،جو ممالک صاف توانائی، جدید بنیادی ڈھانچے اور جدت طرازی میں سرمایہ کاری کریں گے، وہ مستقبل کی معیشت میں سبقت لے جائیں گے لیکن اس مقصد کے لئے انہیں ہر سطح پر تعاون درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً چار برس قبل جی 77 کی قیادت کے دوران پاکستان کا کردار لاس اینڈ ڈیمیج فنڈLoss and Damage Fund ) ) کے قیام کے لئے اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں انتہائی اہم تھا، تقریباً چار برس گزرنے کے باوجود اس ٹرسٹ فنڈ میں 500 ملین ڈالر سے بھی کم رقم منتقل کی گئی ہے، دوسری جانب موسمیاتی آفات سے ہونے والے عالمی نقصانات کی سالانہ لاگت تقریباً 200 ارب ڈالر اور مسلسل بڑھ رہی ہے، حقیقت بالکل واضح ہے، اربوں ڈالر کا نقصان پہنچانے والے بحران کا مقابلہ لاکھوں ڈالر کی مالی معاونت سے نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور چیلنج مصنوعی ذہانت ہے، مصنوعی ذہانت ترقی کی رفتار تیز کر سکتی ہے، صحت کے شعبے کو بہتر بنا سکتی ہے، تعلیم کے مواقع وسیع کر سکتی ہے، زراعت میں انقلاب برپا کر سکتی ہے، قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کو مضبوط بنا سکتی ہے اور ممالک کو ان روایتی رکاوٹوں پر قابو پانے میں مدد دے سکتی ہے جو طویل عرصے سے ان کی ترقی کی راہ میں حائل رہی ہیں لیکن مصنوعی ذہانت عدم مساوات کو مزید گہرا بھی کر سکتی ہے، طاقت کو چند ہاتھوں میں مرکوز کر سکتی ہے، غلط معلومات کے پھیلاؤ کو بڑھا سکتی ہے، روزگار کی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے اور خطرات کی بالکل نئی شکلیں پیدا کر سکتی ہے، ترقی پذیر ممالک کے لیے اس معاملے کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے، مصنوعی ذہانت کا انقلاب اس داستان کا ایک اور باب نہیں بننا چاہئے جس میں ٹیکنالوجی چند لوگ تیار کریں، اس کے فوائد بھی چند لوگوں تک محدود رہیں اور بڑی تعداد میں لوگ پیچھے رہ جائیں، مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کا نظام پوری انسانیت کے مفادات کی عکاسی کرنا چاہئے، اس کے فوائد وسیع پیمانے پر سب تک پہنچنے چاہئیں اور اس کے خطرات سے اجتماعی طور پر نمٹنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک کو اس مستقبل کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا، انہیں محض دوسرے ممالک میں تیار کی جانے والی ٹیکنالوجیز کے صارفین نہیں بننا چاہئے بلکہ ان اصولوں، ضوابط اور اداروں کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے جو ان ٹیکنالوجیز کے استعمال کی رہنمائی کریں گے اور ایک ایسا مقام صرف اقوام متحدہ ہے جہاں ہر ملک کو اس مشترکہ مستقبل کی تشکیل میں اپنی آواز بلند کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں آج کی دنیا پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے بے پناہ خطرات بھی نظر آتے ہیں اور بے پناہ امکانات بھی ہیں، میں ایسے ممالک کو دیکھتا ہوں جو آج بھی تصادم کے بجائے مکالمے کو ترجیح دے رہے ہیں، ایسے معاشرے جو بحرانوں سے نمٹنے کی اپنی صلاحیت مضبوط بنانے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور ایسے نوجوان جو مسائل کے حل کا مطالبہ کر رہے ہیں،آج ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ یکجہتی اور مسائل کے حل کے اسی جذبے کی ضرورت ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ پاکستان کے عوام ان کوششوں میں بھی صفِ اول میں رہیں گے اور دنیا کے مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔











