اقوام متحدہ، 28 اکتوبر (اے پی پی): پاکستان نے ایران کے جوہری معاملے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سلامتی کونسل میں اتفاقِ رائے کے فقدان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جوہری مسئلے کا سفارتی حل پہلے سے کہیں زیادہ ناگزیر ہو گیا ہے، تمام فریقین تحمل و بردباری کا مظاہرہ کریں اور ایسے اشتعال انگیز بیانات اور اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں تصادم کے خطرات بڑھا سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے منگل کو سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری معاملے اور جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران خطے میں شدید کشیدگی اور مسلسل مخاصمت کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی ہے۔ باہمی عدم اعتماد اور اختلافات کے نتیجے میں سلامتی کونسل میں اس معاملے پر اتفاقِ رائے کا عمل بھی تعطل کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام زیرِ التوا مسائل کے پرامن حل، سفارتی روابط اور مسلسل مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔ ایران کے جوہری معاملے کا ایسا مذاکراتی حل تلاش کیا جانا چاہیے جو متعلقہ فریقین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے مطابق ہو،جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کو مضبوط بنائے اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کو یقینی بنائے۔
سفیر عثمان جدون نے کہا کہ جوہری عدم تعمیل سے متعلق معاملات کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی جیسے مجاز تکنیکی اداروں کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ایجنسی کو اپنے تکنیکی مینڈیٹ کے مطابق بلا رکاوٹ کام کرنے کا موقع فراہم کیا جانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل تعمیری سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان نے فریقین کے درمیان رابطوں، پیغامات کے تبادلے اور بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
پاکستانی مندوب نے جون میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سفارتی پیش رفت کی کامیاب مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے پیش رفت ممکن ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں قطر، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، چین اور دیگر شراکت داروں کے تعاون کو سراہا۔
سفیر عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان کو یقین ہے کہ سفارت کاری ایک بار پھر متنازع امور کے پرامن حل کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ پاکستانی قیادت خلوص، عزم اور پختہ یقین کے ساتھ ان سفارتی کوششوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔











