اسلام آباد، 5 اکتوبر( اے پی پی )ء: سینیٹ کی قواعد و ضوابط و استحقاق کمیٹی کا اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سید وقار مہدی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں سینیٹرز سعدیہ عباسی، جان محمد، حافظ عبدالکریم، دوست علی جیسر، اسد قاسم اور پلواشہ محمد زئی خان نے شرکت کی۔ سینیٹرز بشریٰ انجم بٹ اور ندیم احمد بھٹو، جنہوں نے استحقاق کی تحاریک پیش کی تھیں، بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
کمیٹی نے سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی جانب سے 24 دسمبر 2025ء کو وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان کے خلاف پیش کی گئی استحقاق کی تحریک پر غور وفاقی وزیر کی اجلاس میں عدم موجودگی کے باعث مؤخر کر دیا۔کمیٹی نے سینیٹر ندیم احمد بھٹو کی جانب سے ڈپٹی کمشنر ضلع کیماڑی کراچی عبد الستار ہکڑو کے خلاف پیش کی گئی استحقاق کی تحریک پر غور کیا، جس میں مقررہ وقت پر سینیٹر سے ملاقات نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر نے بھی اس امر کا اعتراف کیا۔
سینیٹر ندیم احمد بھٹو نے بتایا کہ ان کے سیاسی دفتر اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے درمیان فاصلہ بمشکل دو منٹ کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے عوامی مفاد کے ایک معاملے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی درخواست کی تھی، تاہم ڈپٹی کمشنر دستیاب نہیں تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایک ماہ سے زائد عرصے تک ان کی ٹیلی فون کالز کا جواب نہیں دیا گیا اور نہ ہی ملاقات نہ ہونے کی کوئی وضاحت فراہم کی گئی۔
ڈپٹی کمشنر ضلع کیماڑی نے وضاحت کی کہ ان کے پرسنل اسسٹنٹ (پی اے) عمرہ کی ادائیگی کے لیے گئے ہوئے تھے اور انہوں نے سینیٹر کی کال سے انہیں آگاہ نہیں کیا۔کمیٹی کے چیئرمین نے قرار دیا کہ انتظامی افسران کو معزز اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہیے اور ان کی درخواستوں اور سوالات کا مناسب طور پر جواب دینا چاہیے۔ ڈپٹی کمشنر نے کمیٹی کے سامنے تحریری معذرت بھی پیش کی۔
چیئرمین نے پارلیمانی امور ڈویژن کو ہدایت کی کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خط لکھا جائے تاکہ ڈی ایم جی افسران کو معزز اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ تعاون کے لیے مناسب ہدایات جاری کی جا سکیں۔سینیٹر ندیم احمد بھٹو کی رضامندی اور کمیٹی کی منظوری سے ڈپٹی کمشنر ضلع کیماڑی کی جانب سے پیش کی گئی تحریری معذرت قبول کر لی گئی اور معاملہ نمٹا دیا گیا۔
کمیٹی نے سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی جانب سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد کے ڈائریکٹر/چیف کلینیکل کوآرڈینیٹر (ای اے سی) ڈاکٹر شرجیل ظہیر کے خلاف پیش کی گئی استحقاق کی تحریک پر غور کیا، جس میں رکن پارلیمنٹ کے خلاف مبینہ توہین آمیز ریمارکس کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔
سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان نے بتایا کہ انہوں نے پمز میں 14 بچوں کی اموات کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کیا تھا۔ ان کے مطابق بعد ازاں اس واقعے سے متعلق ایک ویڈیو بھی شیئر کی گئی، جس پر ایک افسر کی جانب سے مبینہ طور پر تمسخرانہ ریمارکس دیے گئے۔ معاملہ سننے کے بعد کمیٹی نے مزید وضاحت کے لیے متعلقہ افسر کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔
کمیٹی نے سینیٹر حسنہ بانو کی جانب سے ڈپٹی کمشنر حب، بلوچستان جمداد خان مندوخیل کے خلاف مبینہ غیر مناسب رویے، اور اسلحہ لائسنس کے ڈیمانڈ نوٹس پر دستخط کرنے سے بلاجواز انکار سے متعلق استحقاق کی تحریک پر بھی غور کیا۔چیئرمین نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ معزز رکن کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ متعلقہ افسر کے ساتھ معاملہ طے پا چکا ہے۔ چنانچہ رکن کی رضامندی سے استحقاق کی تحریک واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔
سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی جانب سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن (PIFD) کی وائس چانسلر محترمہ حنا طیبہ خلیل کے خلاف پیش کی گئی استحقاق کی تحریک پر غور کیا، جس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے اجلاس میں پیش نہ ہونے یا شرکت سے مبینہ انکار کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔
سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے بتایا کہ موجودہ وائس چانسلر کی کنٹریکٹ مدت دسمبر 2025ء میں ختم ہو چکی تھی اور تاہم اس کے بعد بھی وہ اپنے عہدے پر کام کرتی رہیں۔سینیٹر بشریٰ نے مزید بتایا کہ ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں وائس چانسلر ذاتی طور پر موجود تھیں۔ ان کے مطابق انہوں نے وائس چانسلر سے کہا کہ وہ اجلاس سے باہر چلی جائیں کیونکہ زیر بحث ایجنڈا ان سے متعلق تھا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن کے سینیٹ کے رکن دیپک پروانی نے وائس چانسلر کے مؤقف کی حمایت کی، جس کے بعد تلخ کلامی ہوئی اور سینیٹر اجلاس سے باہر چلی گئیں۔سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے مزید بتایا کہ نئے وائس چانسلر کی تقرری کے لیے سرچ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ وائس چانسلر کی بہن بھی وائس چانسلر کے عہدے کے لیے امیدواروں میں شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت گزشتہ کئی برسوں سے موجودہ وائس چانسلر کی حمایت کرتے رہے ہیں۔پی آئی ایف ڈی کے نمائند گان نے بھی کمیٹی کو اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔
سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کے دفتر سے انصاف، معاونت اور منصفانہ سلوک کے حصول کے لیے رجوع کرنے والے افراد کے حقوق کا تحفظ کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر سخت برہمی کا اظہار کیا کہ باوجود اس کے کہ پی ائی ایف ڈی کے دیپک پروانی اور محترمہ سحر سیگل کو ویڈیو لنک کے ذریعے کمیٹی اجلاس میں شرکت کی ہدایات کی گئیں تاہم انہوں نے ویڈیو لنک
کے ذریعے بھی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کی جو کہ انتہائی افسوسناک امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ائندہ اجلاس میں متعلقہ حکام ذاتی طور پر اپنی حاضری کو یقینی بنائیں گے ۔











