لاہور، 5 اکتوبر (اے پی پی): صوبائی وزیر صحت و ایمرجنسی سروسز پنجاب خواجہ سلمان رفیق نے ریسکیو ہیڈکوارٹرز لاہور میں 15ویں نیشنل ریسکیو چیلنج 2026 کا افتتاح کردیا۔ قومی سطح کے اس چیلنج میں پاکستان بھر سے 14 ریسکیو ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ چیلنج میں خیبر پختونخوا سے مالاکنڈ اور پشاور، سندھ سے غازی اور شاہ لطیف، سی ڈی اے اسلام آباد جبکہ پنجاب سے سرگودھا، ڈیرہ غازی خان، ملتان، ساہیوال، بہاولپور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور راولپنڈی ڈویژنز کی ٹیمیں شریک ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں فائر فٹنس، کیبل کار و ہائٹ ریسکیو، واٹر ریسکیو، ڈیپ ویل ریسکیو، سوئمنگ اور ٹراما مینجمنٹ سمیت مختلف ڈسپلنز میں اپنی پیشہ ورانہ مہارت، جسمانی فٹنس، ٹیم ورک اور تکنیکی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نیشنل ریسکیو چیلنج 5 سے 7 اکتوبر تک جاری رہے گا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت و ایمرجنسی سروسز پنجاب خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ اڑھائی سال سے انسانی جانیں بچانے والے عظیم ادارے ریسکیو سے وابستہ ہونا ان کے لیے اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیورز نے رنگ، نسل، مذہب اور قوم سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ زندگی بچانے سے بڑھ کر کوئی نیک مقصد نہیں، جبکہ سیلاب 2025 کے دوران پاک فوج اور دیگر اداروں کے ہمراہ ریسکیورز نے مشکل میں پھنسے لاکھوں افراد کو تباہی سے بچایا۔ تمام صوبوں میں ایمرجنسی سروسز کا قیام خوش آئند ہے اور ہر شہری کو کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں بروقت اور معیاری سروس کی فراہمی سے احساس تحفظ ملنا چاہئے۔خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ ریسکیو سروس شہریوں کے رائٹ ٹو لائف اور رائٹ ٹو ایمرجنسی کیئر کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ نیشنل ریسکیو چیلنج میں شریک تمام ٹیمیں اپنے علاقائی اور صوبائی مقابلے جیت کر یہاں پہنچی ہیں اور مبارکباد کی مستحق ہیں۔ انہوں نے پاکستان ریسکیو ٹیم کی انسراگ سرٹیفیکیشن کو پورے پاکستان کے لیے اعزاز قرار دیا۔
سیکرٹری محکمہ ایمرجنسی سروسز پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو دن ہو یا رات، ہر ایمرجنسی میں معیاری ریسکیو سروس کی فراہمی کا احساس تحفظ ملنا چاہئے۔ ایمرجنسی سروسز اکیڈمی نے ریسکیورز کی عالمی معیار کے مطابق تربیت کا معیار قائم کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 اب تک دو کروڑ سے زائد افراد کو ریسکیو کرچکی ہے، جبکہ موٹر بائیک ریسکیو سروس نے 50 لاکھ سے زائد افراد کو ریسکیو کیا ہے۔ موٹر بائیک ریسکیو سروس کا اوسط رسپانس ٹائم پانچ منٹ سے کم برقرار ہے۔ ڈاکٹر رضوان نصیر نے بتایا کہ ریسکیو 1122 فائر سروس نے تین لاکھ سے زائد ایمرجنسیز میں بروقت رسپانس کیا، جبکہ واٹر ریسکیو نے 20 ہزار سے زائد حادثات میں رسپانس کرتے ہوئے 80 سے 90 فیصد سے زائد ریکوری ریٹ برقرار رکھا۔
انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 نے سیلاب کے دوران بوٹس کے ذریعے ساڑھے تین لاکھ افراد کو ریسکیو کیا۔ ایمرجنسی سروسز اکیڈمی سے تربیت حاصل کرنے والے ریسکیورز ملک بھر میں عالمی معیار کی ایمرجنسی سروس برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔











