اسلام آباد،31اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیربرائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ جدید خلائی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائنسی معلومات اور قدرتی آفات سے متعلق پیشگی وارننگ کے نظام کی موجودگی کے باوجود انسانی جانوں کا بڑے پیمانے پر ضیاع لمحہ فکریہ ہے، صرف وارننگ جاری کرنا کافی نہیں بلکہ اسے بروقت متعلقہ اور متاثرہ افراد تک پہنچانے کے ساتھ خطرات سے بچائو کے لیے موثر اقدامات اور فالو اپ بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو خلائی ٹیکنالوجی برائے ارلی وارننگ، کلائمیٹ ایکشن اور ڈیزاسٹر رسک اسیسمنٹ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی میں ایک ہفتے کے دوران ہیٹ ویو سے 4600 اموات ہوئیں حالانکہ ہمیں معلوم ہے کہ ہیٹ ویو کہاں جنم لے رہی ہے۔ سائنس کے پاس درست معلومات اور پیشگی وارننگ موجود ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں انسانی جانیں کیوں ضائع ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے مسائل کو اپنا مسئلہ نہیں سمجھتے حالانکہ قدرتی آفات سے خبردار کرنے کے لیے سائنسی معلومات دستیاب ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اب ایسے کام بھی انجام دے سکتی ہے جن کے لیے ماضی میں سپر کمپیوٹرز کو کئی دن یا ہفتے درکار ہوتے تھے۔ یہ ایک تضاد ہے کہ ہمارے پاس معلومات اور سائنسی صلاحیت موجود ہے لیکن خطرات سے آگاہ ہونے کے باوجود ان کا موثر تدارک نہیں کیا جا رہا۔ جس طرح ڈاکٹر شریانوں میں دس فیصد رکاوٹ کی بھی درست نشاندہی کر سکتا ہے، اسی طرح سائنس قدرتی خطرات کی باریک ترین تفصیلات بھی سامنے لا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وارننگ جاری کرنا کافی نہیں بلکہ اسے بروقت متاثرہ افراد تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ ایسی وارننگ جس کا کسی مخصوص شخص یا علاقے سے تعلق نہ ہو، دراصل کسی کے لیے بھی وارننگ نہیں۔ سیلاب کی پیشگی وارننگ موجود تھی لیکن وہ متاثرہ خاندان تک نہیں پہنچ سکی جو نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جس طرح ڈاکٹر مریض کو درست دوا تجویز کرنے کے ساتھ اس کے علاج اور طرز زندگی کی نگرانی بھی کرتا ہے، اسی طرح قدرتی آفات سے بچائو کے لیے بھی موثر فالو اپ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے دوران ہونے والی اموات میں عمارتوں کی چھتیں گرنے کا بڑا کردار ہے،چھتوں اور دیواروں کا گرنا محض حادثہ نہیں بلکہ ناقص تعمیرات اور غلط زوننگ کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ عمارتوں کی ناقص تعمیر، غلط زوننگ اور سڑکوں پر پانی کےبہائوکے ناقص انتظام جیسے عوامل تباہی کی بڑی وجوہات ہیں،ڈیجیٹل ماڈلنگ کے ذریعے اب ایسے خطرات کی پیشگی نشاندہی ممکن ہو چکی ہے جو پہلے ممکن نہیں تھی۔ڈاکٹرمصدق ملک نے سوال اٹھایا کہ اگر یورپ پورے کرہ ارض کا ڈیجیٹل ماڈل تیار کر رہا ہے تو ہم اپنے سیلابی علاقوں اور دریائی میدانوں کےڈیجیٹل ٹوئن کیوں نہیں بنا سکتے اور ایسی کون سی ٹیکنالوجی ہے جو سیلابی علاقوں کی ڈیجیٹل نقشہ سازی کے لیے ہمارے پاس موجود نہیں۔انہوں نے سیٹلائٹ ڈیٹا کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو تبدیل نہیں کیا جا سکتایہ خطرات کی درست نشاندہی کرتا ہے اور اس سے حاصل ہونے والے شواہد رائے نہیں بلکہ حقائق پیش کرتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ قدرتی آفات سے ہونے والےنقصانات اور انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے جدید خلائی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نقشہ سازی اور سیٹلائٹ ڈیٹا سے موثر استفادہ کرنا ہوگا تاکہ خطرات کی بروقت نشاندہی اور ان سے بچائوکے لیے عملی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔











