لاہور، 31 اکتوبر (اے پی پی): صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے کہا ہے کہ گزشتہ اڑھائی سال کے دوران پنجاب بھر کی صنعتی اسٹیٹس میں اربوں روپے کی لاگت سے صنعتی انفراسٹرکچر بہتر بنایا گیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے صنعتی اسٹیٹس کے حوالے سے نئی صنعتی پالیسی کی بھی منظوری دی ہے۔ سازگار کاروباری ماحول کے باعث پنجاب ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کی پہلی ترجیح بن چکا ہے۔وہ پیسک ہاؤس میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں مختلف صنعتی اسٹیٹس میں جاری ترقیاتی کاموں پر پیشرفت اور دیگر امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ملتان انڈسٹریل اسٹیٹ کی توسیع کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ چیئرمین پیڈمک شہزاد اعظم، سی او او علی معظم، چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ نعمان کبیر، چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ سندر انڈسٹریل اسٹیٹ احمد خان، چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ ملتان انڈسٹریل اسٹیٹ بختاور تنویر شیخ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔چوہدری شافع حسین نے ہدایت کی کہ صنعتی اسٹیٹس میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور تعمیراتی معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں میں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب لازمی بنائی جائے اور پلانٹس نہ لگانے والی صنعتوں کو نوٹسز جاری کیے جائیں۔ آئندہ نسلوں کو آلودگی سے پاک ماحول فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔صوبائی وزیر نے ملتان انڈسٹریل اسٹیٹ میں سیوریج سسٹم کی بہتری کا کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صنعتی ضروریات کے پیش نظر اس اسٹیٹ کی توسیع ناگزیر ہو چکی ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ملتان انڈسٹریل اسٹیٹ میں 406 ملین روپے کی لاگت سے ترقیاتی کام مکمل کیے گئے ہیں جبکہ اسٹیٹ سو فیصد کالونائز ہو چکی ہے۔ چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ بختاور تنویر شیخ نے کہا کہ صنعتی سرگرمیوں میں اضافے اور صنعتوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے توسیع ضروری ہے۔چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ نعمان کبیر نے بتایا کہ 565 ایکڑ پر محیط قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ بھی سو فیصد کالونائز ہو چکی ہے اور یہاں قائم صنعتوں سے تقریباً 80 ہزار افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ انہوں نے گزشتہ اڑھائی سال کے دوران اسٹیٹ میں مکمل کیے گئے ترقیاتی منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ سندر انڈسٹریل اسٹیٹ احمد خان نے اجلاس کو ترقیاتی کاموں کی تفصیلات اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔











