پاکستان کا جموں و کشمیر تنازعے کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ استصوابِ رائے پر زور

7

اقوامِ متحدہ، 26 اکتوبر (اے پی پی ): پاکستان نے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے۔ پاکستان نے زور دیا کہ اس تنازعے کا حتمی فیصلہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، جو کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کی ضمانت فراہم کرتی ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں اقلیتوں کے مسائل سے متعلق خصوصی نمائندے کے ساتھ انٹرایکٹو مکالمے (Interactive Dialogue) کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستان کی قونصلر، صائمہ سلیم نے اس امر پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانب دارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے حقِ خودارادیت کے استعمال کا موقع دیا جانا چاہیے، جیسا کہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، بشمول قرارداد 47 (1948)، میں تصور کیا گیا ہے۔

انہوں نے خصوصی نمائندے کی اس وضاحت کا خیرمقدم کیا جس میں اقلیتوں کے حقوق اور اقوام کے حقِ خودارادیت کے درمیان فرق کو تسلیم کیا گیا ہے، اور جموں و کشمیر کے تنازعے کے تناظر میں اس امتیاز کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مساوات،عدم امتیاز اور بنیادی حقوق کے احترام کے اصولوں کا اطلاق ہر جگہ، یکساں طور پر اور بلا امتیاز ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ اور پائیدار حل بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، تاکہ جموں و کشمیر کے عوام اپنے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے تحت اپنے مستقبل کا آزادانہ فیصلہ کر سکیں۔

پاکستانی مندوب نے دنیا بھر میں اقلیتوں، بشمول مسلم اقلیتوں، کے خلاف بڑھتے ہوئے امتیازی سلوک، عدم برداشت،نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا، مذہبی بنیادوں پرتفریق،مذہبی آزادیوں پر پابندیوں اور نفرت پر اکسانے کے بڑھتے ہوئے رجحانات پر بین الاقوامی برادری کی زیادہ توجہ اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔