ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولت پر جائزہ اجلاس، وزیرِ اعظم کی ترجیحی شعبوں کو آسان قرضوں کی فراہمی تیز کرنے کی ہدایت

4

اسلام آباد،02  نومبر  (اے پی پی): وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملکی ترجیحی شعبوں بالخصوص چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز)، ہاؤسنگ اور زراعت کو آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی اور فائنانسنگ کی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔

 اجلاس کا بنیادی مقصد معاشی استحکام، نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع کی فراہمی اور تجارتی برآمدات کو فروغ دینا تھا۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم نے اسٹیٹ بینک اور وزارتِ خزانہ کو سخت ہدایت جاری کی کہ کسانوں، چھوٹے کاروباری افراد اور ‘وزیرِ اعظم اپنا گھر اسکیم’ کے تحت قرضوں کی فراہمی میں سست روی کا مظاہرہ کرنے والے بینکوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔

اجلاس کو ترجیحی شعبوں میں کمرشل بینکوں کی کارکردگی کے اشاریے بھی پیش کیے گئے، جس پر وزیرِ اعظم نے بہترین نتائج دکھانے والے بینکوں کی کارکردگی کو قابلِ ستائش قرار دیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے نجی شعبے کی ترقی میں بینکوں کی کلیدی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ بینکوں کی جانب سے ترجیحی شعبوں کے لیے ویسے ہی تعاون کی توقع ہے جیسا تعاون حکومت اور اس کے ادارے بینکوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر معیشت کی ترقی، برآمدات کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمدات بڑھانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘وزیرِ اعظم اپنا گھر اسکیم’ سے ہاؤسنگ اور تعمیرات کے شعبے سے منسلک درجنوں صنعتوں کو فروغ ملے گا۔ وزیرِ اعظم نے وزیرِ خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ ایس ایم ای، زراعت اور ہاؤسنگ کے شعبوں کے اسٹیک ہولڈرز کے فائنانسنگ سے متعلق درپیش مسائل حل کریں اور اس مقصد کے لیے ایک جامع لائحہ عمل مرتب کریں۔

انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مل کر چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں اور برآمد کنندگان کے ٹیکس سے متعلق مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے کاروباری افراد کو قرضوں کی آسان فراہمی کے لیے رسک کوریج کی جامع حکمت عملی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

اجلاس میں اسٹیٹ بینک کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ترجیحی شعبوں کو مالی وسائل کی فراہمی بڑھانے کے لیے تین بنیادی ستونوں پر کام کیا جا رہا ہے، جن میں ضوابط میں بہتری، حکومت و بینکوں کے درمیان رسک اور اخراجات کی شراکت داری، اور ڈیجیٹل سہولیات کا فروغ شامل ہیں۔ اس سلسلے میں حال ہی میں ‘SME Connect Portal’ (smeconnect.sbp.org.pk) کا آغاز کیا گیا ہے جس کے ذریعے کاروباری افراد آن لائن قرض کی درخواست جمع کرانے کے علاوہ اس کی پیش رفت بھی دیکھ سکتے ہیں۔

بریفنگ میں دی گئی تفصیلات کے مطابق 23 اکتوبر 2026 تک ‘وزیرِ اعظم اپنا گھر پروگرام’ کے تحت 86 ہزار 899 درخواستوں کے بدلے 511 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ 15 ہزار 584 درخواست گزاروں کو 91 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔ ہاؤسنگ فنانس کا مجموعی حجم 455 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے جس سے 1 لاکھ 87 ہزار سے زائد افراد مستفید ہو رہے ہیں۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں جاری کردہ قرضوں کا حجم 1329 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جس سے تقریباً 35 لاکھ افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ ایس ایم ایز کے شعبے میں قرضوں کا حجم 1148 ارب روپے ہو گیا ہے جس سے 3 لاکھ 42 ہزار سے زائد کاروباری افراد مستفید ہو چکے ہیں۔ بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ مالی سال 2027 کے اختتام تک زرعی اور ایس ایم ای شعبوں میں قرضوں کا حجم 1,500 ارب روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اجلاس کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت نے ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ای شعبوں کے لیے رسک شیئرنگ اور کریڈٹ گارنٹی کے اقدامات متعارف کرائے ہیں اور قرضوں کے حصول کے طریقہ کار کو آسان بنانے، دستاویزات کی شرط کم کرنے اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مالی وسائل تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، میاں ریاض حسین پیر زادہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، مشیر وزیرِ اعظم ہارون اختر، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، ارکانِ قومی اسمبلی اور تمام معروف کمرشل بینکوں کے سربراہان و نمائندوں نے شرکت کی۔