وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا ڈیجیٹل اثاثوں اور بینکاری کے مستقبل پر مکالمے سے ورچوئل خطاب، مالیاتی نظام میں جدت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فروغ پر زور

4

اسلام آباد، 2 نومبر (اے پی پی): وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مالیاتی جدت پاکستان کے معاشی مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، حکومت جدید مالیاتی سہولیات کے فروغ، کاروباری سرگرمیوں میں آسانی اور عوام کو مالیاتی نظام سے منسلک کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

پیر کو پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام اور لمز کے اشتراک سے منعقدہ ’’ڈیجیٹل اثاثوں اور بینکاری کے مستقبل پر مکالمے‘‘ سے ورچوئل کلیدی خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، اس سفر میں مالیاتی شعبے کی جدید کاری، برآمدات کے فروغ اور نجی سرمایہ کاری میں اضافے کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے ذریعے بیرون ملک سے رقوم کی ترسیل کو مزید آسان اور کم لاگت، کاروباری ادائیگیوں کو تیز اور کاروباری افراد کے لیے مالی وسائل تک رسائی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں بینکاری شعبے کا کردار اہم ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ صارفین کو مؤثر اور قابل اعتماد مالیاتی خدمات فراہم کرنے کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے ذریعے ڈیجیٹل مالیاتی شعبے کے لیے قانونی فریم ورک متعارف کرایا ہے، جبکہ پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو اس شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے اداروں کی لائسنسنگ اور نگرانی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس فریم ورک کے تحت متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون اور مؤثر نگرانی کے ذریعے جدید مالیاتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی ترقی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ دونوں اداروں کا تعاون اس شعبے کی ترقی اور مالیاتی نظام کو مزید مستحکم بنانے میں اہمیت رکھتا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی، جدید ادائیگیوں کے نظام اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی سے پاکستان میں مالیاتی جدت کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ ٹوکنائزیشن کے ذریعے بینکاری، ادائیگیوں اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں جدید سہولیات متعارف کرانے کے مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور ترسیلات زر کے شعبے میں ٹوکنائزیشن کے ممکنہ استعمال کا جائزہ لے رہی ہے۔ اسی طرح وزارت خزانہ موجودہ یورو بانڈز کی ٹوکنائزیشن کے امکانات پر بھی کام کر رہی ہے، جس سے مالیاتی شعبے میں جدید طریقہ کار متعارف کرانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر ڈیجیٹل مالیاتی نظام اور بلاک چین سے متعلق پالیسی مکالمے میں بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے تاکہ ترقی پذیر معیشتوں کے تجربات اور ترجیحات کو عالمی مالیاتی نظام کی تشکیل میں مؤثر انداز میں شامل کیا جا سکے۔