پشاور، 5جون(اے پی پی): سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق احمد غنی کی زیر صدارت صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تمام پارلیمانی لیڈران اور حکومتی وزراء و مشیران کے مابین بجٹ 2020-21 کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے شروع میں کرونا وبا سے شہید ہونے والے ممبر صوبائی اسمبلی میاں جمشید کاکاخیل، ایم این اے منیر اورکزئی،صحافت، طب و دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد جو اس وبا کی وجہ سے انتقال کر گئے، ان تمام افراد کی ارواح کی ایصال ثواب کی خاطر فاتحہ خوانی کی گئی۔
بجٹ اجلاس کے اوقات و طریقہ کار کے لئے مختلف پہلووں پر غور و خوص ہوا جبکہ اس موقع پر جن امور پر باہمی اتفاق ہوا ان میں مندرجہ ذیل نکات شامل ہی۔اسمبلی کے داخلی راستے پر سینیٹیائزر گیٹ کے ذریعے داخلہ ہوگا۔ تمام اراکین اسمبلی اپنے ساتھ صرف ڈرائیور لا سکیں گے جبکہ انکو دیگر سٹاف بشمول گن مین وغیرہ ساتھ لانے کی اجازت نہی ہوگی۔ تمام اراکین اسمبلی کے لئے فیس ماسک پہننا لازمی ہوگا۔ تمام ممبران اسمبلی کا اجلاس سے قبل کرونا ٹیسٹ کروائے جاینگے۔ منفی رپورٹ آنے کے بعد اجلاس میں شرکت کرسکینگے۔ تمام ممبران کو مہمانوں کی گیلریز میں مناسب حفاظتی فاصلہ رکھ کر بٹھایا جائے گا۔
اجلاس 19 جون 2020 سے 28 جون 2020 تک جاری رہے گا جبکہ 20 اور 21 جون 2020 کو چھٹی ہوگی۔ہفتہ اتوار اجلاس چلتے رہینگے۔ اجلاس دن کو بوقت 2.00بجے شروع ہوگا اور سہ پہر 5.00 بجے تک جاری رہے گا۔ تمام پارلیمانی لیڈر 15 منٹ اور باقی ممبران 5 منٹ بجٹ پر تقریر کرسکینگے۔وقت کا ضیاع کسی صورت نہی کیا جائے گا۔ غیر معمولی حالات اور کرونا کی پھیلتی ہوئی وبا کی وجہ سے اجلاس کے دوران تمام غیر متعلقہ افراد،مہمانوں,،میڈیا وغیرہ پر پابندی ہوگی،اس موقع پرفیصلہ کیا گیا کہ ہر قسم کی انٹرٹینمنٹ پر مکمل پابندی ہوگی۔ تمام اراکین اسمبلی جو بجٹ اجلاس میں شرکت کرینگے۔ حفاظتی ایس او پیز پر سختی سے عمل پیرا ہونگے۔
اس موقع پر وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ ہمارا ارادہ اس سال پیپر لیس بجٹ پیش کرنے کا تھا مگر موجودہ غیر معمولی حالات کی وجہ سے آئندہ سال انشاء اللہ پیپر لیس بجٹ پیش کیا جائے گا۔
قائمہ کمیٹیوں کے حوالے سے سپیکر مشتاق احمد غنی نے کہا کہ پہلے بھی اس حوالے سے ایک مقامی اخبار میں یہ خبر لگائی گئی کہ انھوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا حالانکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں. حقیقت یہ ہے کہ ایک ممبر شفیق آفریدی کی تحریک پر یہ فیصلہ ہوا نئے قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد چونکہ صوبائی اسمبلی کے اراکین کی تعداد بڑھ چکی ہے اور اس وجہ سے ان کی نمائندگی بھی ضروری تھی. اب انشاء اللہ اپوزیشن کے ساتھ باہمی مشاورت کے ساتھ قائمہ کمیٹیوں کے قیام کا فیصلہ ہوگا۔
اجلاس کے شرکاء میں حکومتی اراکین میں سے سلطان خان، کامران بنگش، شوکت یوسفزئی، تیمور سلیم جھگڑا، اکبر ایوب خان جبکہ اپوزیشن اراکین میں سے شیر اعظم وزیر،مولانا لطف الرحمان، سردار حسین بابک،مفتی عبید الرحمان،بلاول آفریدی اور سردار یوسف شامل تھے۔
صائمہ حیات،فاروق











