پشاور، 4جولائی(اے پی پی): آئی جی خیبر پختونخوا ثناء اللہ عباسی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس میں خود احتسابی کے نظام پر قانون کے تحت مکمل عمل درآمد اور انسانی حقوق کی پاسداری پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس پشاور میں منعقدہ ویڈیولنک کانفرنس کے دوران اعلیٰ پولیس حکام کو دیں۔ اجلاس میں پولیس کے احتساب کے نظام کا جائزہ لیا گے۔
ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ اینالسس(Research & Analysis) نے پولیس کے احتساب کے بارے میں ایک تفصیلی پریفنگ دی ۔ انہوں نے آئی جی پی کو بتایا کہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017میں پولیس کا احتساب کرنے کے لئے External Accountability اور Internal Accountabilityکا مکمل نظام وضع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہExternal Accountabilityکے لیے پروانشل پبلک سیفٹی کمیشن ،ڈسٹرکٹ پبلک سیفٹی کمیشن،ریجنل کمپلینٹ اتھارٹی اور کریمنل جسٹس کوآرڈینشن کمیٹی کے قیام کے لئے کہا گیا ہے۔ اس موقع پر ا نہوں نے کہا کہ پبلک سیفٹی کمیشن اور ریجنل کمپلینٹ اتھارٹی میں ترامیم اور ان کو جلدازجلد فعال بنانے کے لئے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو تجاویز بھیجی جا چکی ہیں جن پر عمل درآمد ضروری ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے خود احتسابی (Internal Accountability) کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا ۔
آئی جی پی کو بتایا گیاکہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017کے سیکشن 41کے تحت خیبرپختونخوا پولیس میں محکمانہ خود احتسابی برانچ قائم کیا گیا ۔ جس کے سربراہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس ہیں۔ اس برانچ کے دو شعبہ جات یعنی انسانی حقوق (Human Rights) اور کمپلینٹ اینڈ انکوائری(Complaint & Enquiry) ہیں ہر شعبہ کا سربراہ اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل رینک کا آفیسر ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی جی ہیومن رائٹس کی آسامی ابھی تک منظور نہیں کی گئی۔جس کے لئے حکومت کو مراسلہ پہلے ہی بھیجا جا چکا ہے۔
آئی جی پی کو خود احتسابی برانچ کی کارکردگی کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک پولیس کے خلاف مختلف قسم کی عوامی شکایات پر 1064 پولیس اہلکاروں کو نوکری سے برخاست کیا گیا، جبکہ 8700 پولیس اہلکاروں کو دوسری چھوٹی بڑی سزائیں دی گئیں۔ سزا پانے والوں میں کانسٹیبل سے لیکر ایس پی رینک کے افسر شامل ہیں۔
آئی جی پی کو مزید بتایا گیا کہ عوامی شکایات کے ازالے کے لئے ضلع کی سطح پر ایس پی کمپلینٹ آفس قائم کر دئیے گئے ہیں۔ جو لوگوں کو بروقت انصاف کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں اور بتایا گیا اس سال کے دوران ضلعی شکایات مراکز کو مجموعی طور پر ہزار777 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 5 ہزار 326شکایات کا ازالہ کر دیا گیا ہے اور شکایات کی بنیاد پر 56پولیس اہلکاروں کو بڑی سزائیں دی جا چکی ہیں۔ آئی جی پی کو بتایا گیا کہ ایس پی کمپلینٹ آفس میں تعیناتی کے لئے ضلع کی سطح پر مخصوص ایس پی رینک کی آسامیاں پیدا کرنے کے لئے مراسلہ پہلے ہی حکومت کو بھیجا جا چکا ہے لیکن اس پر عمل درآمد ابھی باقی ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آئی جی پی نے کہا کہ انسانی حقوق کا احترام، عوامی شکایات کا بروقت ازالہ اور لوگوں کو انصاف کی فراہمی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ پولیس حکام کو ہدایت کی کہ پبلک سیفٹی کمیشن اور ریجنل کمپلینٹ اتھارٹی کو جلدازجلد فعال بنانے کے لئے متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ کیا جائے۔ اسی طرح اے آئی جی ہیومن رائٹس اور ہر ضلع میں ایس پی کمپلینٹ کی نئی آسامیاں پیدا کرنے کے لئے حکومت کو دوبارہ مراسلہ بھیجا جائے اور ان آسامیوں کی جلدازجلد منظوری اور ان پر تعیناتی کے لئے حکومت کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے تاکہ خود احتسابی کے نظام کو اور موثر بنایا جائے اور لوگوں کی امنگوں کے مطابق ان کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں آئی جی پی نے محکمانہ خود احتسابی برانچ کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی پی ہیڈکوارٹرز، کمانڈنٹ ایلیٹ فورس ،ڈی آئی جی آپریشن ،کمانڈنٹ ایف آر پی ، ریجنل پولیس آفیسرز، ڈی جی سیف سٹی پراجیکٹ، اے آئی جی آپریشن ، اے آئی جی اسٹبلشمنٹ اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام نے بھی شرکت کی۔
وی این ایس، پشاور











