وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت اجلاس، معدنی وسائل کی تلاش  کیلئے  قائم کمپنیوں کے امور کا جائزہ لیا  گیا

86

کوئٹہ، 02ستمبر( اے پی پی): وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں صوبے کے معدنی وسائل کی تلاش و ترقی کے لئے قائم کی گئی کمپنیوں بلوچستان منرل ایکسپلوریشن کمپنی اور بلوچستان منرل ریسورسز کمپنی لمیٹڈ کے امور کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان کمپنیوں کے رولز میں ایسی شقیں بھی شامل کی جائیں گی جن کے تحت ان کمپنیوں کومائننگ لیزکے حصول اور پبلک پرائیویٹ پاٹنر شپ کے تحت معدنی منصوبے بنانے کا قانونی تحفظ حاصل ہو۔

سیکریٹری محکمہ معدنیات و معدنی ترقی ظفر بخاری نے اجلاس کو بی ایم ای سی اور بی ایم آر ایل سے متعلق امور پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ معدنی شعبہ میں کمپنیوں کے قیام کا مقصد بلوچستان کے قیمتی معدنی وسائل کی تلاش وترقی، ان کا تحفظ اور انہیں صوبے کے معاشی استحکام کے لئے بروئے کار لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات کے شعبہ میں ایسی جامع حکمت عملی اپنانے اور موثر پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جن سے ہم اپنے معدنی وسائل کو بھرپور طور پر بروئے کار لاسکیں جس کی بے پناہ گنجائش موجود ہے، معدنی ذخائرکے حامل ممالک نے بہتر پالیسیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ ترقی حاصل کی ہمیں بھی ان کی تقلید کرنے کی ضرورت ہے۔

 وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ بی ایم ای سی اور بی ایم آر ایل کے ٹرمز آف ریفرنس میں جدت کرتے ہوئے ایسی شقیں شامل کی جائیں جن کے ذریعہ یہ کمپنیاں خودمختارحیثیت سے معدنی ذخائر کی تلاش وترقی کے منصوبوں میں حصہ لے سکیں، وزیراعلیٰ نے کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں معدنی شعبہ کے ماہرین کو شامل کرنے کی ہدایت بھی کی۔

 وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے وسائل کے حامل دیگر شعبوں کو بھی کمپنی موڈ پر لے جانے کے بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔

سیکریٹری معدنیات نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ بی ایم آر سی کی سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹریشن ہوگئی ہے جبکہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل کی جارہی ہے جس میں معدنی شعبہ کے ماہرین کی نمائندگی بھی ہوگی، کمپنی میں نوے فیصد شیئر حکومت بلوچستان جبکہ 10فیصد شیئر وفاقی حکومت کا ہے، اس حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوچکے ہیں، کمپنی کو ابتدائی دوسالوں میں 3.2ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔

سیکریٹری اطلاعات شاہ عرفان غرشین، اسپیشل سیکریٹری محکمہ خزانہ لعل جان جعفر، ڈائریکٹر جنرل معدنیات اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی  اجلاس  میں  شرکت کی۔