ملتان ،08ستمبر (اے پی پی ):سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی نے کہا کہ مینگو ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے تحت جاری تحقیقی سرگرمیوں کے ثمرات کاشتکاروں کی دہلیز تک پہنچائے جائیں۔ ریسرچ ادارے قائم کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اقسام کی دریافت سے فصلوں، سبزیوں اور باغات کی پیداوار، کوالٹی اور کاشتکاروں کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ممکن بنایا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحقیقاتی ادارہ برائے آم کی کارکردگی کے جائزہ لینے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہدایت کی کہ ایسی اقسام دریافت کی جائیں جو بہتر شیلف لائف اور برآمد کیلئے موزوں ہوں۔ باغبانوں کو آم کی اقسام کی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے تاکہ وہ اچھی خوبیوں کی حامل زیادہ منافع بخش اقسام کی کاشت کو فروغ دیں۔انہوں نے ہدایت کی آئندہ بریفنگ میں گزشتہ تین سالوں کی کارکردگی پیش کی جائے آم کے رقبہ اور پیداوار میں اضافہ کیلئے ادارہ کاکیاکردار ادا رہا ہے اس بارے مکمل ڈیٹا پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے تین سالوں کیلئے لائحہ عمل اور اس پر عملدرآمد کا طریقہ کار بھی بتایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ادارہ کے قیام سے قبل اور بعد میں جنوبی پنجاب میں آم کے زیر کاشت رقبہ، پیداوار،کوالٹی اور برآمدات کا موازنہ پیش کیا جائے۔ بعد ازاں سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب نے مینگو ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے تجرباتی فارم کا معائنہ کیا۔ انہوں نے معائنہ کے دوران تجرباتی فارم پر اچانک مرجھاؤ کی بیماری سے متاثرہ پودوں کو دیکھ کر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس بیماری کا علاج دریافت کرکے کاشتکاروں کے باغات کو پہنچنے والے نقصان سے محفوظ بنایا جائے۔ سیکرٹری زراعت ساؤتھ پنجاب نے تحقیقاتی ادارہ برائے آم کے سائنسدانوں کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اگلے چھ ماہ کے اندر ریسرچ ٹرائلز میں بہتری لائی جائے تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکیں۔ کلین نرسری کے تحت باغبانوں کو آم کے سرٹیفائیڈ پودے فراہم کیے جائیں اور اس نرسری سے حاصل کرنے والے پودوں کے باغبانوں کا مکمل ریکارڈ تیار کیا جائے اور ان سے فیڈ بیک بھی حاصل کیا جائے۔











